ایرانمشرق وسطییمن

امریکا، منہ کی کھا کر ہی یمن سے نکلے گا: ایران

وزارت خارجہ نے منگل کو جنگ یمن کے پانچ سال پورے ہونے اور اس جنگ کے چھٹیں سال میں داخل ہونے پر ایک بیان میں کہا کہ یمن پر فوجی جارحیت ایسی حالت میں جاریہے کہ امریکا اور کچھ دیگر ممالک نے نہ صرف یہ کہ جارح اتحاد کے جنگی جرائم پر اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں بلکہ بدستور ہتھیاروں کو فروخت کرکے، اطلاعات کے تبادلے اور جارح قوتوں کی حمایت کرکے ان جرائم میں شریک ہیں اور ان کو اس کا جواب دینا ہوگا۔

اس بیان میں آیا ہے کہ امریکا نے یمن کے مختلف علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا کر اس ملک میں اپنی حکمت عملی سے پردہ اٹھایا ہے اور یمن میں اپنی فوجی موجودگی مضبوط کرنے کی کوشش میں ہے۔

وزارت خارجہ کے کہا امریکا نے ثابت کر دیا ہے کہ علاقے کے جس ملک میں بھی اس کی موجودگی ہوئی وہاں نا امنی اور اس ملک کے سرمایہ کی لوٹ پاٹ کے علاوہ کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی تنظیموں اور اداروں نے تائید کی ہے کہ یمن کی 80 فیصد آبادی یعنی تقریبا 2 لاکھ 50 ہزار یمنی خواتین اور بچوں کو انسان دوستانہ امداد کی ضرورت ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ظالمانہ اور غیر انسانی پابندیوں اور جرائم کی وجہ سے یمن میں المیہ پیدا ہو گیا ہے اور عالمی سطح پر صدی کا سب سے بڑا المیہ اس ملک میں رونما ہو گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button