ایرانمشرق وسطی

امریکی دھمکیوں کی وجہ سے انسانی غلطی کا نتیجہ ہے یوکرینی طیارہ حادثہ ، صدر روحانی

صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے سنیچر کو ایک بیان جاری کرکے ، یوکرین کے مسافر طیارے کے حادثے کے بارے میں ایران کی مسلح افواج کی ہائی کمان کے اعلامیئے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قوم کے خلاف جارح امریکی حکومت کی دھمکیوں کے نتیجے میں ایران کی مسلح افوج ہر قسم کے ممکنہ حملے کے مقابلے کے لئے، پوری طرح ہائی الرٹ کی حالت میں تھیں کہ انہیں حالات میں انسانی غلطی کی وجہ سے ایک بڑا انسانی المیہ رونما ہوگیا جس میں دسیوں بے گناہ جانیں چلی گئیں ۔

صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے اس المناک حادثے پر اظہار افسوس اور جن ملکوں کے شہری اس حادثے میں جاں بحق ہوئے ہیں، ان کی اقوام، حکومتوں اور جاں بحق ہونے والوں کے پس ماندگان کو تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس المناک حادثے کے سبھی عوامل اور علل و اسباب کا پتہ لگانے کے لئے تحقیقات جاری ہیں ۔

صدر روحانی نے کہا کہ یہ دردناک سانحہ کوئی ایسا موضوع نہیں جس کو با آسانی نظر انداز کر دیا جائے۔ لازم ہے کہ اس سانحے کے ممکنہ اسباب اور قصورواروں کے بارے میں مکمل تحقیقات عمل میں لائی جائیں اور قانونی کاروائی کی جائے اور ساتھ ہی اسکے نتائج سے ایرانی عوام اور جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو آگاہ کیا جائے۔

اس دوران ایرانی عدلیہ کے سربراہ نے مسلح افواج کے عدالتی شعبے کو حکم دیا ہے کہ یوکرین کے مسافر طیارے کے حادثے سے متعلق تمام قانونی دستاویزات اور شواہد اکٹھا کئے جائیں۔

یاد رہے کہ یوکرین کا ایک مسافر طیارہ بدھ کو تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے اڑان بھرنے کے تھوڑی ہی دیر بعد گرکر تباہ ہوگیا تھا ۔ اس حادثے میں ایک سو سڑسٹھ مسافر اور عملے کے نو افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

اس حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں اکثریت ایرانی شہریوں کی تھی۔اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی ہائی کمان نے سنیچر کو ایک بیان جاری کرکے اعلان کیا ہے کہ ایران کے اندر بہت سے اہداف کو نشانہ بنانے کے لئے امریکا کے صدر اور امریکی فوجی کمانڈروں کی دھمکیوں اور خطے میں فضائی نقل و حمل میں غیر معمولی اضافہ ہوجانے کے پیش نظر اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج ، ہر قسم کے ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے ہائی الرٹ کی حالت میں تھیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق میں دہشت گرد امریکی فوج کے اڈوں پر ایران کے انتقامی میزائلی حملوں کے بعد ایران کے اطراف میں جنگی طیاروں کی پروازوں میں اضافہ ہوگیا تھا اور بعض رڈاروں کی اسکرین پر متعدد اہداف کا مشاہدہ کیا جارہا تھا جس کی وجہ سے ہوائی دفاع کے تعلق سے حساسیت کافی بڑھ گئی تھی۔

ایران کی مسلح افواج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان حساس اور بحرانی حالات میں یوکرین کی ایک مسافر فلائٹ نے امام خمینی انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے اڑان بھری ۔ یہ طیارہ اڑان بھرنے کے بعد چکر لگانے کے دوران، ایسی بلندی اور پوزیشن میں پاسداران انقلاب کے ایک اہم اور حساس فوجی مرکز کے قریب ہورہا تھا کہ دیکھنے میں دشمن کا ہدف لگ رہا تھا ، ان حالات میں ایک غیر عمدی انسانی غلطی رونما ہوتی ہے اور مذکورہ طیارہ فائرنگ کی زد میں آجاتا ہے ۔ایران کی مسلح افواج نے اپنے اعلامیئے میں اس انسانی غلطی کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کے پسماندگان کو تعزیت پیش کی ہے اور ان سے معافی مانگتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ پوری مسلح افواج میں آپریشن کے تعلق سے بنیادی اصلاحات انجام دی جائیں گی اور مستقبل میں اس قسم کی انسانی غلطی کو ناممکن بنا دیا جائے گا۔ ایران کی مسلح افواج کی ہائی کمان نے اپنے بیان میں اعلان کیا ہے کہ قصور وار کو ضروری قانونی کارروائی کے لئے مسلح افواج کے عدالتی شعبے کے حوالے کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button