ایرانمشرق وسطی

اوپیک میں ایران کے مفادات کو لاحق خطرات پر تہران کا انتباہ

ایران کے وزیر پٹرولیم نے کہا ہے کہ ایران اوپیک میں اپنے قومی مفاد کی وجہ شامل ہے اور اس کا ممبربنا ہوا اور اگر اوپیک کے رکن ممالک نے ایران کو دھمکانے کی کوشش کی تو ایران کی جانب سے سخت جواب دیا جائے گا۔

ایران کے وزیر پٹرولیم بیژن نامدار زنگنہ نے تہران میں اوپیک کے سیکریٹری جنرل محمد سانوسی بارکیندو سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک، اپنے بعض اراکین کے یکطرفہ اقدامات کی بنا پر خطرے سے دوچار ہے اور ممکن ہے کہ اس تنظیم کا شیرازہ بکھر جائےتیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک کے سیکریٹری جنرل، بدھ کو تہران پہنچے اور جمعرات کو انھوں نے تہران میں تیل و گیس اور پٹروکیمیکل کی چوبیسویں بین الاقوامی نمائش میں بعض اسٹالوں کا معائنہ کیا اور اس نمائش کا قریب سے جائزہ لیا۔انھوں نے عالمی منڈی سے ایران کے تیل کا کوٹہ ختم کئے جانے کو ناممکن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف یکطرفہ فیصلے ہرگز کارگر ثابت نہیں ہو سکتے۔امریکی حکومت نے بائیس اپریل کو اعلان کیا ہے کہ ایران سے تیل خریدنے والے ملکوں کو اب چھوٹ نہیں دی جائے گی اور انھیں ایران سے تیل کی خریداری بند کرنا ہو گی۔ امریکہ نے دو مئی سے اپنے فیصلے پر عمل کرنے کا اعلان بھی کیا۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیؤ نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے عالمی منڈی میں ایران کے تیل کی کمی سے پیدا ہونے والی کمی کو پرکرنے کا وعدہ کیا ہے تاکہ ایران کے تیل کے بائیکاٹ کے فیصلے کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔دوسری جانب توانائی کے امور میں یورپی یونین کے کمشنر نے کہا ہے کہ ایران سے تیل خریدنے والے ملکوں کی چھوٹ کی مدت میں توسیع نہ کرنے کے امریکی حکومت کے فیصلے سے ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کا سلسلہ کمزور پڑ جائے گا۔میگل اریاس کانتہ نے برسلز میں امریکی وزیر توانائی رک پیری کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں تاکید کے ساتھ کہا کہ یورپ بہترین معاہدے کی حیثیت سے ایران کے ساتھ طے پانے والے ایٹمی معاہدے کی حمایت کرتا رہے گا اور اس کا خیال ہے کہ ایرانی تیل کے خریدار ملکوں کو چھوٹ دیئے جانے کی مدت میں مزید توسیع نہ کئے جانے کے فیصلے سے بین الاقوامی ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کا سلسلہ سست پڑ جائے گا۔انھوں نے ایران کے خلاف تیل کی پابندیوں کے سلسلے میں امریکہ سے یورپ کے موقف میں پائے جانے والے اختلاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران جب تک ایٹمی معاہدے پر کاربند ہے یورپ بھی اس بین الاقوامی معاہدے کی حمایت کرتا رہے گا۔واضح رہے کہ امریکی وزیر توانائی نے یورپ امریکہ توانائی فورم کے اجلاس میں شرکت کے لئے برسلز کا دورہ کیا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button