ایشیاہندوستان

بابری مسجد کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید

ہندوستان کی ایک اقلیتی فلاحی تنظیم کےسربراہ نے بابری مسجد کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر سخت تنقید کی ہے

ہندوستان کی اقلیتی فلاحی تنظیم کے سربراہ مولانا تاجدار احمد نے بدھ کو بابری مسجد کے سلسلے میں اس ملک کے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

مولانا تاجداراحمد نے کہا کہ مسجد کی زمین قیامت تک کے لئے مسجد ہے اور کسی کو بھی اس کا استعمال بدلنے کا حق نہیں ہے۔ ہندوستان کی اقلیتی فلاحی تنظیم کے سربراہ مولانا تاجدار احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ثابت ہوگیا کہ ہندوستانی عدلیہ صرف ہندو اکثریت کے موقف پر توجہ دیتی ہے اور اقلیتوں کے حقوق کا دفاع نہیں کرتی۔واضح رہے کہ ہندوستان کے سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں ایودھیا میں واقع بابری مسجد کی زمین ہندؤں کے حوالے کردی اور اعلان کیا کہ وہ اس زمین پر رام مندر بنا سکتے ہیں۔ عدالت کے فیصلے میں شہر ایودھیا میں ہی مسجد کی تعمیر کے لئے پانچ ایکڑ زمین دینے کا حکم دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button