ایرانمشرق وسطی

برطانیہ، ایران کے داخلی امور میں مداخلت سے پرہیز کرے: ترجمان حکومت ایران

تہران میں برطانیہ کے سفیر رابرٹ میک ایئر کو ہفتے کے روز تہران کی امیرکبیر یونیورسٹی کے سامنے ہونے والے غیرقانونی اجتماع میں موجودگی کے باعث گرفتار کر لیا گیا تھا تاہم انھیں حاصل سفارتی تحفظ کی بنا پر تھوڑی دیر کے بعد رہا کردیا گیا۔
حکومت ایران کے ترجمان علی ربیعی نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کر تے ہوئے واضح کیا کہ برطانوی سفیر کا اقدام پوری طرح سفارتی اصولوں کے منافی اور ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ رابرٹ میک ایئر کو ایران کی وزارت خارجہ میں طلب کر کے انھیں اور ان کی حکومت کو اسلامی جمہوریہ ایران کے احتجاج سے آگاہ کردیا گیا۔
علی ربیعی نے مزید کہا کہ اب تک ایران میں برطانیہ کی مداخلت نامناسب رہی ہے اور لندن کو ایران کے داخلی امور میں کسی بھی طرح کی مداخلت سے باز رہنا چاہئے۔
حکومت ایران کے ترجمان نے شہید جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ایٹمی سمجھوتے سے یورپ کے نکلنے جانے اور ایران و امریکہ درمیان مذاکرات کے امکان کے بارے میں کہا کہ ایٹمی سمجھوتے کے ہر فریق نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایٹمی سمجھوتے سے باہر نکل جانے کے لئے واشنگٹن کی درخواستوں کو ماننے اور دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا ہے ۔
ایران کی حکومت کے ترجمان نے طیارہ سانحے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ناگوار سانحے کی جڑیں ایران میں کچھ اہداف کو نشانہ بنانے کی امریکی صدر اور فوجی کمانڈروں کی دھمکیوں میں پیوست ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران ، یوکرین کے طیارے کو پیش آنے والے سانحے جیسے واقعات کو روکنے کے لئے لازمی اقدامات کررہا ہے تاکہ انسانی غلطی کے امکانات ختم ہوجائیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button