فلسطینمشرق وسطی

جوابی حملوں میں درجنوں اسرائیلی ہلاک و زخمی

صیہونی حکومت کی جارحیت کے جواب میں غزہ سے مقبوضہ علاقوں پر اتوار کے روز بھی درجنوں میزائل فائر کئے گئے۔ فلسطینیوں کے میزائل حملوں میں دسیوں صیہونیوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی خبر ہے۔

صیہونی حکومت کی پولیس کا کہنا ہے کہ غزہ سے داغا جانے والا ایک میزائل اشکلان سٹی میں ایک مکان پر لگا جس کے نتیجے میں کم سے کم ایک صیہونی مارا گیا۔
غزہ کی مزاحمتی قوتوں نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات اسرائیلی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو اپنے میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔
فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات دیر گئے غزہ سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کم سے کم پچاس میزائل داغے گئے۔
میڈیا رپوٹوں کے مطابق بیر السبع، نقب، ڈیمونا عسقلان، حتسریم ایربیس اور نواتیم کا فوجی اڈہ فلسطینی مزاحمتی قوتوں کے میزائل حملوں کا نشانہ بنے۔
تحریک مزاحمت کی اس جوابی کارروائی کے بعد صیہونی آبادی کے علاقوں میں خطرے کے سائرن بجنے لگے اور صیہونیوں پر خوف و ہراس طاری ہو گیا اور صیہونی فوجی مکمل چوکس ہو گئے۔
میڈیا رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی کی مزاحمتی قوتوں کے میزائل حملوں میں درجنوں صیہونی ہلاک اور زخمی ہوئے۔
دوسری جانب اسرائیل کا داخلی سیکورٹی کا وزیر بھی فلسطینیوں کے میزائلی حملوں سے خوف زدہ ہو کر علاقے سے فرار ہو گیا۔
آریے درعی نے اپنے ٹوئٹ پیج پر فلم شیئر کی جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ بیرالسبع کے ایک بنکر میں پناہ لے رکھی ہے اور سائرن بجنے کی آوزیں سنائی دے رہی ہیں۔
درایں اثنا حکومت امریکہ نے غزہ کے رہائشی علاقوں پر اسرائیل کے حالیہ وحشیانہ حملوں کو نظر انداز کرتے ہوئے حماس کے جوابی حملوں کی مذمت کی ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے نئے ترجمان مورگن اورٹاگوس نے حملے فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ اور فلسطینیوں کے مقابلے میں واشنگٹن کی جانب سے اسرائیل کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
یورپی یونین نے بھی غزہ پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرنے کے بجائے مقبوضہ فلسطین پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ فلسطین کی مزاحمتی قوتوں نے غزہ کے رہائشی علاقوں پر اسرائیل کی کھلی جارحیت کے جواب میں مقبوضہ علاقوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔
صیہونی حکومت نے جمعے کے روز غزہ کو فضائی حملوں اور گولہ باری کا نشانہ بنایا تھا جس میں گیارہ افراد شہید ہو گئے تھے جن میں ایک کم سن بچہ اور اس کی ماں بھی شامل ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button