شاممشرق وسطی

جولان کے بارے میں امریکی اقدامات غیر قانونی، شام

اقوام متحدہ میں شام کے مستقل نمائندے نے کہا ہے کہ جولان کی بلندیوں کے بارے میں ٹرمپ کے بیان سے اس حقیقت میں تبدیلی نہیں آئے گی یہ علاقہ شام کا اٹوٹ حصہ ہے۔

بشارجعفری نے یہ بات زور دے کر کہی کہ امریکہ کو جولان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹرمپ کے بیان کی مذمت اور اقوام متحدہ کے منشور اور قراردادوں کی بالادستی کے لیے عملی اقدامات انجام دیں۔
اقوام متحدہ میں شام کے مستقل نمائندے نے کہا کہ مقبوضہ جولان کے حوالے سے امریکہ کا کوئی بھی اقدام غیر قانونی اور غیر اصولی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ باون سال کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ جولان کے علاقے پر اسرائیل کی حکمرانی کو سرکاری طور پر تسلیم کر لے۔ ٹرمپ کے اس بیان کی عالمی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے امریکہ کی جانب سے جولان کی بلندیوں پر اسرائیلی قبضے کی امریکی حمایت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کا غیر ذمہ دارانہ بیان زوال پذیر امریکی امپریل ازم کے خوف و ہراس کی علامت ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ امریکہ ہی مشرق وسطی کے عدم استحکام کا اصل ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس قدر ہذیان میں مبتلا ہے کہ وہ سمجھ بیٹھا ہے کہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی، دنیا کے خود مختار ملکوں پر دھونس جمانا اور اپنی پٹھو حکومتوں کو نچوڑنا، اس کے طاقتور ہونے کی علامت ہے لیکن وہ سخت غلطی پر ہے۔
برطانیہ کی وزارت خارجہ نے بھی جمعے کی شب اعلان کیا ہے کہ لندن، جولان کے علاقے کو اسرائیل کے زیر قبضہ ایک مقبوضہ علاقہ سمجھتا ہے۔
فرانس کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ جولان کی بلندیوں پر اسرائیل کا قبضہ عالمی قوانین کے منافی ہے اور پیرس اسے تسلیم نہیں کرتا۔
جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان الریک ڈیمر نے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جولان کی بلندیاں شام کا حصہ ہیں جس پر اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے۔
یورپی یونین کے امور خارجہ کی انچارج فیڈریکا موگرینی کی ترجمان مایا کوتسیانچیچ نے بھی کہا ہے کہ یورپی یونین جولان کے علاقے پر اسرائیلی حکمرانی کو تسلیم نہیں کرتی۔
اقوام متحدہ کے ترجمان فرہان حق نے بھی ٹرمپ کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ادارہ جولان کے بارے میں اقوام متحدہ کی تمام قراردادوں کا بدستور پابند ہے۔
صیہونی حکومت نے سن انیس سو سڑسٹھ کی جنگ میں شام کے علاقے جولان کا دو سو کلومیٹر کے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا اور کچھ دن کے بعد اسے اسرائیل میں شامل کر لیا۔ عالمی برادری نے جولان کو اسرائیل میں ضم کیے جانے کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی جولان پر اسرائیل کے قبضے کو غاصبانہ قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button