مشرق وسطییمن

سعودی جارحیت سے یمن میں ہر10 منٹ میں ایک بچہ شہید

یمن پر سعودی اور اس کے اتحادیوں کی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے اعداد و شمار کے مطابق یمن میں ہر 10 منٹ میں ایک بچہ سعودی عرب کی بربریت کے نتیجے میں شہید ہورہا ہے اور یہاں بچوں کو ادویات اورمناسب خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔

الخلیج الجدید کی ویب سائٹ نے سعودی عرب کے العربیہ ٹی وی، اخبار الریاض اور جرمنی کے ڈویچہ ولہ نیوز چینل کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ یمن پر سعودی عرب کے فضائی حملوں پر، چودہ سے اٹھارہ ارب ڈالر اخراجات آئے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق یمن پرسعودی عرب کی جنگ کے، بے تحاشا اخراجات نے ریاض کو دو ہزار پندرہ میں فوجی بجٹ تقریبا نوّے ارب ڈالر تک پہنچانے پرمجبور کردیا اور اب اسے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کی بنا پر بڑے بجٹ خسارے کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔

یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے یمنی عوام کو شدید غذائی قلت اور طبی سہولتوں اور دواؤں کے فقدان کا سامنا ہے ۔

سعودی عرب نے غریب اسلامی ملک یمن کی بیشتر بنیادی تنصیبات اسپتال اور حتی مسجدوں کو بھی منہدم کردیا ہے لیکن اس کے باوجود سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ میں اپنے اہداف تک پہنچنے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button