ایرانمشرق وسطی

سہ فریقی فوجی مشقوں کا آغاز کل سے ہوگا

تہران میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے ایران کی مسلح افواج کے ترجمان اعلی بریگیڈیئر ابوالفضل شکارچی نے بتایا کہ ایران، روس، چین کی مشترکہ بحری مشقیں جمعے سے شروع ہوں گی اور چار روز تک جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بحر ہند اور بحیرہ عمان کا سمندری علاقہ عالمی تجارت کے حوالے سے انتہائی کلیدی اہمیت رکھتا ہے اور دنیا کے بہت سے ممالک کے جہاز یہاں سے آتے اور جاتے ہیں لہذا اس علاقے کی سلامتی کا تحفظ انتہائی اہم اور حیاتی ہے۔

بریگیڈیئرابوالفضل شکارچی نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے تاحال یہ ثابت کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں اور خاص طور سے بحر ھند اور بحیرہ عمان کی سلامتی کے تحفظ کی مسلسل کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ایران ، روس اور چین کی مشترکہ بحری مشقوں کا مقصد اس اسٹریٹیجک آبی علاقے میں جہاز رانی کی سلامتی کو پائیدار بنانا نیز دہشت گردی اور قزاقی کی روک تھام کرنا ہے۔

ایران کی مسلح افواج کے ترجمان اعلی نے مزید کہا کہ سہ فریقی بحری مشقوں کا ایک اور مقصد ایران روس اور چین کے درمیان تجربات کا تبادلہ کرنا ہے۔

شمالی بحر ہند اور بحیرہ عمان کا علاقہ بین الاقوامی سمندری تجارت کے حوالے سے اہم ترین سمندری خطہ شمار ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ شروع ہی سے دنیا بھر کے ممالک کی توجہ اس خطے کی سلامتی پر مرکوز رہی ہے۔

ایران روس اور چین نے اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے سمندری سلامتی اور بحری امداد رسانی جیسے دو اہم مقاصد کے تحت مشترکہ فوجی مشقوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا۔ تینوں ممالک بحری شعبوں میں مشترکہ تجربات کے حامل ہیں اور مشترکہ فوجی مشقوں کے انعقاد اور تجربات کے تبادلے کے ذریعے شمالی بحر ہند اور بحیرہ عمان کے اسٹریٹیجک آبی علاقے کی اجتما‏عی سلامتی کو پہلے سے زیادہ مضبوط اور پائیدار بنانا چاہتے ہیں۔

سہ فریقی بحری مشقوں کا اولین پیغام یہ ہے کہ خطے کے ممالک ہی اس اہم عالمی آبی گزرگاہ کی سلامتی کے اصل بانی ہیں اور بیرونی افواج کی موجودگی سے جہاز رانی کے تحفظ میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔

ان مشقوں کا دوسرا پیغام سیاسی ہے اور وہ یہ ہے کہ ایران روس اور چین جیسے خطے کے اہم ملکوں کے درمیان سمندر، دفاع اور امداد رسانی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کی نشاندھی ہوتی ہے۔

علاوہ ازیں روس، ایران عالمی سیاسی میدان اورعلاقائی فوجی تعاون کے میدان میں ایران کا اسٹریٹیجک اتحادی ہے جبکہ چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، بنا برایں تینوں ملکوں کی مشترکہ فوجی مشقیں دیگر طاقتوں کے لیے واضح پیغام کی حامل ہیں۔

ترک خـبر رساں ایجنسی آناطولیہ کے مطابق یہ فوجی مشقیں دراصل امریکہ کے مقابلے میں طاقت کا مظاہرہ ہیں۔

ایران روس اور چین جیسی تین بڑی طاقتوں کی مشترکہ بحری مشقیں عالمی سطح پر معنی خیز واقعہ شمار ہوتی ہیں اور اس بات کی نشاندھی کرتی ہیں کہ مذکورہ تینوں ممالک سیاسی سطح پر اچھے تعلقات کے ساتھ ساتھ فوجی میدان میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے جس کا مقصد مشترکہ سلامتی کو پائیدار بنانا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button