افریقہ

طرابلس میں خلیفہ حفتر کی فوج کا ایک طیارہ مار گرایا گیا

لیبیا کی قومی وفاق کی حکومت نے کہا ہے کہ دارالحکومت طرابلس میں خلیفہ حفتر کی فوج کے ایک جنگی طیارے کو مار گرایا گیا۔

لیبیا کی قومی وفاق کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس کی فوج نے اتوار اور پیر کی درمیانی رات طرابلس کے جنوب میں خلیفہ حفتر کی زیرکمان فوج کے ایک جنگی طیارے کو مار گرایا ہے۔

خلیفہ حفتر کی زیرکمان لیبیا کی نیشنل فورس کا کہ جسے سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل ہے، ملک کے مشرقی علاقوں پر کنٹرول ہے اور اس نے ملک کے شمالی علاقوں کی جانب بھی پیشقدمی کی ہے-

خلیفہ حفتر نے رواں ماہ کی چار تاریخ کو اپنے فوجیوں کو طرابلس پر حملہ کرنے کا حکم جاری کیا تھا- حفتر نے طرابلس پر حملے کا حکم سعودی عرب کا دورہ مکمل کرنے کے بعد دیا-

طرابلس پر خلیفہ حفتر کے حملے کے بعد سے اب تک ایک سو اکیس افراد ہلاک اور سیکڑوں دیگر زخمی ہو چکے ہیں-

اس درمیان لیبیا کی قومی وفاق کی حکومتی کونسل کے رکن محمد عماری زاید نے کہا ہے کہ طرابلس کے رہائشی علاقوں پر بمباری شہر کے باشندوں کے حوصلے پست کرنے کے لئے کی جارہی ہے-

انہوں نے کہا کہ خلیفہ حفتر کی فوج نے جس طرح سے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے اس کے پیش نظر اس پر بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا-

لیبیا میں دو ہزار گیارہ میں معدوم ڈکٹیٹر معمرقذافی کی حکومت کی سرنگونی کے بعد سے امریکا اور نیٹو کی مداخلت کی وجہ سے خانہ جنگی، عدم استحکام اور بدامنی کی صورتحال پائی جارہی ہے-

پچھلے چار برسوں سے لیبیا میں دو متوازی حکومتیں دو پارلیمان اور دو فوجیں ہیں، ایک پارلیمنٹ طبرق میں ہے جس کی خلیفہ حفتر حمایت کرتے ہیں اور دوسری پارلیمنٹ دارالحکومت طرابلس میں ہے، جو قومی وفاق کی حکومت کے ساتھ ہے۔

عالمی برادری بھی وزیراعظم فائز السراج کی زیرقیادت قومی وفاق کی حکومت کو ہی تسلیم کرتی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button