مشرق وسطییمن

عدن میں متحدہ عرب امارات و سعودی عرب کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں

یمن کے شہر عدن میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ مسلح جتھوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے اور فریقین ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے حملے کر رہے ہیں۔

خبروں میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ ساوتھ یمن ٹرانزیشنل کونسل کے مسلح جتھوں نے سعودی عرب سے وابستہ یمن کے مستعفی صدر منصور ہادی کے حمایت یافتہ مسلح افراد کےگھروں پر حملے کیے ہیں۔کہا جارہا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حایت یافتہ مسلح جتھوں کے درمیان جھڑپوں کا دائرہ جنوبی یمن کے دو دیگر صوبوں ابین اور شبوہ تک پھیل گیا ہے۔

ابین، صوبہ شبوہ کے بعد جنوبی یمن کے مرکزی شہرعدن سے متصل دوسرا بڑا صوبہ ہے جسے یمن کی مستعفی حکومت کے مسلح جتھوں نے ساوتھ ٹرانزیشنل کونسل کے مسلح حامیوں سے حال ہی میں واپس لیا ہے۔ابین ، یمن کی مستعفی حکومت کے صدر منصور ہادی کی جائے پیدائش بھی ہے۔

دوسری جانب دہشت گرد گروہ داعش نے جنوبی یمن کے علاقے دارالسعد کے قریب حملہ کر کے ساوتھ ٹرانزیشنل کونسل کے متعدد مسلح افراد کو قتل کردیا ہے۔

پچھلے چند روز کے دوران سعودی عرب کے حمایت یافتہ مستعفی یمنی صدر منصور ہادی کے مسلح حامیوں نے عدن، ابین اور شبوہ صوبوں کے متعدد علاقوں کو متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ ساوتھ ٹرانزیشنل کونسل کے مسلح جتھوں سے واپس لے لیا تھا تاہم متحدہ عرب امارات سے وابستہ فورس نے دوبارہ قبضہ کرلیا۔

سعودی اتحاد میں شام میں دونوں فریقوں کے مسلح جتھوں کے درمیان یکم اگست سے خونی جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے جس کا مقصد جنوبی یمن کے زیادہ سے زیادہ علاقوں پر اپنا کنٹرول جمانا ہے۔

دوسری جانب یمن اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اعلی حکام کا یہ کہنا کہ جنوبی یمن میں دہشت گردوں پر حملے کیے جارہے ہیں، یمن کے خلاف سعودی اتحاد کی جنگ کے غیر قانونی ہونے کی تائید ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ یمن کے خلاف اس غیر قانونی جنگ میں شریک امریکہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ان کے دیگر اتحادی ممالک دہشت گرد ہیں۔

یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ جمعرات کے روز متحدہ عرب امارات کے لڑاکا طیاروں نے عدن اور زنجبار شہروں میں سعودی عرب کے حمایت یافتہ مستعفی یمنی صدر منصور ہادی کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی جس میں تین سو افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button