فلسطینمشرق وسطی

غزہ پر غاصب صیہونی حکومت کی جارحیت

غاصب صیہونی حکومت نے جمعے کی رات عزہ کو ایک بار پھر وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنایا۔

پارس ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کے جنگی طیاروں نے غزہ کے وسط میں واقع المغازی کیمپ کے مشرق میں فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

غاصب صیہونی حکومت کی اس جارحیت میں دو فلسطینی شہید ہو گئے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران غاصب صیہونی حکومت نے جنگی طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور توپوں سے بارہا غزہ کے مختلف علاقوں پر حملہ کیا ہے۔

غزہ کے علاقوں پر اس کی وحشیانہ جارحیت کا نیا سلسلہ دسمبر دو ہزار سترہ سے مسلسل جاری ہے۔

دوسری جانب فلسطین کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ صیہونی فوجیوں نے فلسطینیوں کے پرامن واپسی مارچ پر ایک بار پھر وحشیانہ طریقے سے فائرنگ کر کے پچاس فلسطینیوں کو زخمی کر دیا۔

العالم کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں فلسطین کی وزارت صحت کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعے کے روزستاونویں واپسی مارچ کے دوران صیہونی فوجیوں نے وحشیانہ فائرنگ کر کے پچاس فلسطینیوں کو زخمی کردیا۔ غاصب صیہونی فوجیوں نے فلسطینیوں کے خلاف زہریلی گیس کا بھی استعمال کیا۔

دریں اثنا فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے رکن محمود الزہار نے کہا ہے کہ جب تک غزہ کا محاصرہ جاری ہے غاصب صیہونی حکومت کے خلاف فائر بندی کا نفاذ عمل میں نہیں آ سکتا۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ کا محاصرہ جاری رہنے کی صورت میں فائر بندی ناقابل قبول ہے اور اس پر عمل نہں ہو سکتا۔

محمود الزہار نے کہا کہ حق واپسی مارچ فائر بندی کے لئے نہیں بلکہ غزہ کا محاصرہ ختم کرانے کے لئے جاری ہے اس لئے کہ اس ظالمانہ محاصرے کے نتیجے میں غزہ کے عوام کی معمول کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ حق واپسی مارچ کا مقصد سن انیس سو اڑتالیس کے مقبوضہ علاقوں کو واپس لینے پر تاکید کے عزم کا مظہر ہے اور غاصب صیہونی فوجیوں کی جانب سے وحشانہ جارحیت کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں غزہ میں فائر بندی کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا۔

اسی اثنا میں تحریک حماس کے ایک اور رہنما نے غاصب صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششیں بند کئے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی عوام، شام کے مقبوضہ علاقے جولان کے بارے میں امریکہ کے فیصلے کے خلاف ہیں۔

اسماعیل رضوان نے کہا کہ فلسطینیوں کے حق واپسی مارچ اور فلسطینیوں کی استقامت سے فلسطینی امنگوں کے خلاف امریکی صدر ٹرمپ کے سارے منصوبے خاک میں مل جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ فلسطینی عوام، شام کے حامی ہیں اور وہ ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔

پی ایل او کی ایگزکٹیو کمیٹی کے سیکریٹری صائب عریقات نے بھی جمعے کے روز امریکہ کی پچاس مختلف سیاسی، اقتصادی، سماجی، ثقافتی اور عملمی شخصیات کے ایک وفد سے گفتگو میں فلسطین کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے تمام فیصلوں کو نادرست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف امریکہ اور اسرئیل کے جارحانہ عزائم کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button