دنیایورپ

فرانس میں مظاہرین پر تشدد کی پرزور مذمت اور تنیقدیں

فرانس کے بی ایف ایم ٹی وی نے ایک ویڈیو کلپ جاری کیا ہے جس میں مظاہرے میں شامل ایک شخص پر پولیس بدترین تشدد کر رہی ہے۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوا ہے اور اس کی وجہ سے فرانس کے صدر میکرون اور ان کی حکومت کو شدید تنقیدوں کا سامنا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس ویڈیو میں پولیس مظاہرے میں شامل ایک شخص کے سر اور چہرے پر تشدد کر رہی ہے جس کے باعث خون جاری ہے اور وہ ایک دوکان کے سامنے پڑا ہوا ہے۔
فرانس کے حکام کا کہنا ہے کہ اٹھارہ جنوری کو مظاہرین پر پولیس کے تشدد کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔
فرانس کی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ پینشن اسکیم میں اصلاحات کے خلاف سنیچر کو پیرس میں ہونے والے مظاہروں میں یلو جیکٹ مظاہرین بھی شامل تھے۔ پولیس نے ساٹھ افراد کو گرفتار کیا تھا جن میں سے پینتالیس اب بھی پولیس حراست میں ہیں۔
فرانس میں سرمایہ دارانہ نظام اور میکرون حکومت کی پالیسیوں کے خلاف سترہ نومبر دوہزار اٹھارہ سے ملک گیر مظاہرے ہو رہے ہیں جبکہ پینشن قانون میں تبدیلیوں کے خلاف مظاہروں اور ہڑتال کا سلسلہ پانچ دسمبر دوہزار انیس سے شروع ہوا ہے اور بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button