ایشیاپاکستانیورپ

ناروے میں قران کریم کی بے حرمتی کے خلاف پاکستان کے مختلف شھروں میں مظاھرے

ناروے میں قران کریم کی بے حرمتی کے خلاف لاھور، ملتان، چالاس سمیت پاکستان کے مختلف شھروں میں مظاھرے کئے گئے جس میں کثیر تعداد میں افراد نے شرکت کی ۔

ملتان میں ایم ڈبلیو ایم کے زیراہتمام منعقد ہونے والے مظاھرے میں حکومت پاکستان سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

جامعہ شہید مطہری سے ریلی کا آغاز ہوا اور چوک قذافی پر اختتام پذیر ہوئی، ریلی کی قیادت مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ سید اقتدار حسین نقوی، صوبائی رہنما علامہ قاضی نادر حسین علوی، ضلعی سیکرٹری جنرل مرزا وجاہت علی، حسنین انصاری، حسنین کربلائی سمیت دیگر نے کی۔

شرکاء نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ناروے کی حکومت کے خلاف نعرے درج تھے ۔

مجلس وحدت مسلمین کے رہنماوں نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیان نامی تنظیم کی تخریبی فکر سے آگاہ ہونے کے باوجود انہیں شرپسندانہ اقدامات کے لئے کھلی چھٹی دے کر ناروے کی حکومت نے پورے دنیا کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے، اس دل آزاری پر ناروے کی حکومت کو پوری دنیا کے مسلمانوں سے معافی مانگنی چاہئے۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علامہ اقتدار نقوی کا کہنا تھا کہ بنیادی حقوق کی آزادی کی آڑ میں کسی کے مذہب کی تضحیک کی ہرگز اجازت نہیں ہونی چاہیئے، اقلیتوں سمیت تمام طبقات کو ہر طرح کا تحفظ فراہم کرنا ریاست کا اولین فریضہ ہے، سیان نامی تنظیم کی تخریبی فکر سے آگاہ ہونے کے باوجود انہیں شرپسندانہ اقدامات کے لیے کھلی چھٹی دے کر ناروے کی حکومت نے پورے دنیا کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے، اس دل آزاری پر ناروے کی حکومت کو پوری دنیا کے مسلمانوں سے معافی مانگنی چاہئے۔

علامہ قاضی نادر حسین علوی نے کہا کہ عالم اسلام کے درمیان لاکھ اختلافات سہی لیکن دین اسلام کی حرمت و دفاع کے لیے پوری امت مسلمہ کے جذبات اور نظریات ایک جیسے ہیں، مسلمان کبھی بھی اپنے دین اور مقدسات کی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ شدت پسند تنظیم سیان کے سرکردہ رکن لارس کی طرف سے قران کی توہین کا فعل ایک ناقابل معافی جرم ہے، رہنماوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ فی الفور ناروے حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کئے جائیں۔

دوسری جانب انجمن طلباء اسلام ملتان کے بوسن روڈ ملتان پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں ڈسٹرکٹ ناظم مہر سکندر اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغرب آزادی اظہار رائے کے مکر و فریب میں مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، اسلام اور کبھی صاحب اسلام کی شان میں توہین کی ناپاک جسارت کی جاتی ہے۔ اب کلام الہیٰ، صحیفہ انقلاب قرآن حکیم کو جلا کر مسلمانوں کے جذبات سے کھیلا جاتا ہے۔ حال ہی میں ناروے میں قرآن کریم کو جلائے جانے کا افسوس ناک واقعہ مغرب کی انتہا پسندی اور تعصب کا واضح ثبوت ہے۔ قرآن کریم کی عزت و عظمت اور تحفظ ہر مسلمان کے لیے فرض ہے۔

مغرب کے اس متعصبانہ رویئے اور شعائر اسلام کی مسلسل توہین پر انجمن طلباء اسلام ملتان حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ ناروے کے سفیر کو فی الفور ملک بدر کرتے ہوئے سفارتی تعلقات ختم کیے جائیں۔ قرآن کریم جلانے والے شخص کو توہین مذہب کے جرم کے ارتکاب میں سخت قرار واقعی سزا دی جائے۔ قرآن کریم کے وقار اور تحفظ کے لیے دلیرانہ اور جرات مندانہ کردار ادا کرنے والے غازی عمر الیاس کو قانونی تحفظ دیا جائے۔ عالمی دنیا اقوام متحدہ اور دیگر اسلامی ممالک توہین قرآن اور توہین مذہب پر قانون سازی کرے۔ اس موقع پر مہر سکندر اقبال، مہر جاوید اشرف سیال، ملک مبشر کھوکھر، ملک حمزہ کھوکھر، ملک اشرف، مہر عرفان سیال، کاشف بلوچ، شاہد کوکب، محمد احمد اور محمد توحید و دیگر طلباء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button