ایرانمشرق وسطی

ہندوستان میں مسلمانوں پر تشدد، ایران کا اظہار تشویش

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے ایک پریس کانفرنس میں ہندوستان اور خاص طورپر دہلی میں ہوئے حالیہ فرقہ وارانہ فسادات پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران ہندوستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھتا ہےکہ جہاں مذہبی رواداری اور بھائی چارہ پایا جاتا ہے لیکن حالیہ فسادات کے دوران آنےوالی خبریں تشویشناک ہیں۔

ترجمان وزارت خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف حملوں اور تشدد کا سلسلہ جلد سے جلد رک جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ امید اس عقل و فہم کی بنیاد پر ہے جو ہندوستانی حکام میں پائی جاتی ہے۔ ترجمان وزارت خارجہ سید عباس موسوی نے کہا کہ ایران کو ہندوستان میں فرقہ وارانہ تصادم اور مذہبی منافرت پر تشویش ہے اور وہ اس کا سرکاری چینلوں سے جائزہ لے رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں شہریت ترمیمی ایکٹ کی منظوری کے بعد مسلمانوں کے خلاف انتہاپسند ہندؤوں کے تشدد میں اضافہ ہوگیا ہے۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ترکی اور شام کے درمیان ایران کی ثالثی کے بارے میں کہا کہ تہران ، آستانہ میکانیزم کو شام میں اختلافات کے حل کا اہم ترین طریقہ کار سمجھتا ہے اور علاقے میں امن و امان قائم ہونے تک اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے آبنائے ہرمز میں فرانس کی فوجی موجودگی کے بارے میں کہا کہ علاقے میں بیرونی فوجیوں کی کسی بھی طرح کی موجودگی عدم استحکام کا باعث ہوگی اور یہ غیرتعمیری اقدام ہے۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے امریکہ اور طالبان کے درمیان ہوئے سمجھوتے کے بارے میں کہا کہ ایران کا خیال ہے کہ افغانستان میں امن و امان کا قیام ، تمام افغان گروہوں کے اتفاق رائے اور مرکزی حکومت کی رہنمائی سے انجام پانا چاہئے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button