ایرانمشرق وسطی

یورپ اس مقام پر نہیں کہ ایران پر نکتہ چینی کرے: جواد ظریف

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یورپی ممالک اس مقام پر نہیں ہیں کہ ایران پر حتی ان شعبوں میں جن کا جوہری معاہدے سے کوئی تعلق بھی نہیں ہے نکتہ چینی کریں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نےآج اتوار کے روز تہران میں منعقدہ پروگرام کے موقع پر اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ جوہری معاہدے میں اقدام اہم نہیں بلکہ نتیجہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہا کہ یورپی ممالک اورجوہری معاہدے کے دیگر رکن ممالک پر یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایران کے اقتصادی روابط کو معمول پر لائیں۔

ایران کے وزیر خارجہ نے ایرانی حکومت کی جانب سے جوہری معاہدے کے دوسرے فریقین کو 60 دن کی مہلت دینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے اپنے وعدوں پر عمل نہ کیا تو ہم دوسرے اقدامات انجام دیں گے.

محمد جواد ظریف نے مغربی ایشیاء کے علاقے میں مغربی ممالک کی مداخلت پرکڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کا نتیجہ سوائے نقصان کے اور کچھ نہیں نکلا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے عنقریب غیرملکی حکام کے دورہ ایران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جاپانی وزیر اعظم اور جرمن وزیر خارجہ کے دورہ تہران، صدر حسن روحانی کے دورہ بشکیک اور دوشنبہ اور ان ممالک کے صدور اور اعلی حکام سے ملاقاتیں، اپنی پالیسی پر روشنی ڈالنے اور تمام ممالک کے خلاف ظالمانہ پالیسیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے ایک مناسب موقع ہے.

واضح رہے کہ جاپان کے وزیراعظم 12 جون کو ایرانی حکام سے ملاقات و گفتگو کرنے کیلئے ایران کا دورہ کریں گے۔ جبکہ جرمنی کے ورزیر خارجہ کل پیر کے روز تہران پہنچ رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close