یمن نے سعودی عرب کے خلاف اپنے خاص ہتھیار اب تک استعمال نہیں کیے، عرب میڈیا
تفصیلات کے مطابق، المیادین کے نمائندے نے بتایا کہ سعودی جنگی طیاروں نے الجوف میں سعودی عرب سے وابستہ مسلح عناصر کی مدد کے لیے بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے، لیکن ان حملوں سے زمینی صورت حال میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی۔
رپورٹ کے مطابق المیادین کے نمائندے نے کہا کہ یمنی مسلح افواج کے پاس اپنے اہداف کی فہرست موجود ہے اور اگر سعودی عرب نے اپنے حملے جاری رکھے تو صنعاء کی جانب سے جوابی کارروائی کا دائرہ مزید وسیع ہوسکتا ہے۔
انہوں نے مزید دعوی کیا کہ یمنی مسلح افواج نے سعودی عرب کے خلاف جاری جنگ میں ابھی تک اپنے ہائپر سونک میزائلوں یا دیگر خصوصی ڈرونز کا استعمال نہیں کیا۔
اس سے قبل یمن کے ایک میدانی ذریعے نے یمن ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یمنی مسلح افواج نے صوبہ الجوف کے علاقے خب والشعف میں واقع الیتمہ کے علاقے میں سعودی عرب سے وابستہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
میدانی ذریعے کے مطابق یمنی فورسز نے الیتمہ کے بازار میں داخل ہونے والے سعودی حمایت یافتہ عناصر کو گھیرنے کے لیے ایک وسیع کارروائی کی، جس کے دوران ان کے درجنوں فوجی سازوسامان تباہ کر دیے گئے۔
ذریعے نے دعوی کیا کہ الیتمہ کا بازار اور وہ تمام علاقے جہاں سعودی حمایت یافتہ عناصر داخل ہوئے تھے، دوبارہ یمنی فورسز کے کنٹرول میں آ گئے ہیں، جبکہ الجوف کے اطراف میں موجود مخالف عناصر کا تعاقب کیا جا رہا ہے۔ یمنی مسلح افواج الجوف کے تمام محاذوں پر مخالف قوتوں کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔



