
آبنائے ہرمز میں امریکی زیر آب جاسوسی نظام کیسے سپاہ پاسداران کے ہاتھ لگ گیا؟
سپاہ پاسداران نے اعلان کیا ہے کہ مذکورہ زیرآب نظام کی تصاویر بھی جاری کرنے کے بعد اس کی درست ساخت، ترتیب اور اس میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے بارے میں مزید معلومات سامنے آسکیں گی۔
یہ واقعہ محض ایک غیر ملکی نظام کے قبضے میں آنے تک محدود نہیں بلکہ جدید بحری جنگ میں بغیر انسان کے چلنے والے زیر آب نظاموں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے تناظر میں بھی قابل توجہ ہے۔
Dive-LD آخر ہے کیا؟
دستیاب معلومات کے مطابق سپاہ کے ہاتھ آنے والا نظام Dive-LD ہے۔ یہ روایتی آبدوز نہیں بلکہ ایک بڑا خودکار زیرِ آب نظام ہے، جسے کسی انسان کو اندر سوار کیے بغیر طویل عرصے تک سمندر کی گہرائی میں مختلف مشنز انجام دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس نظام کو ابتدا میں امریکی کمپنی Dive Technologies نے تیار کیا تھا۔ بعد ازاں اس کمپنی کے حصول کے بعد Dive-LD کی مزید ترقی کا کام Anduril Industries کے پاس آگیا۔
دستیاب معلومات کے مطابق Dive-LD کا پہلا نمونہ اپریل 2025 میں امریکی بحریہ کی یونٹ UUVRON-1 کے حوالے کیا گیا تاکہ اسے عملی ماحول میں آزمایا جاسکے۔
اس کی لمبائی تقریباً 5.8 میٹر اور وزن قریب تین ٹن بتایا جاتا ہے۔ یہ حجم اسے عام چھوٹی زیرآب ڈرون یا تفریحی آبی گاڑی سے کہیں زیادہ بڑا اور پیچیدہ نظام بناتا ہے۔
انسان کے بغیر کئی دن زیرآب رہنے کی صلاحیت
Dive-LD کی بنیادی خصوصیت اس کا خودکار نظام ہے۔ اس میں انسان کے سوار ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ طویل عرصے تک زیر آب رہ کر مقررہ مشن انجام دے سکتا ہے۔
اس نظام کے بارے میں جاری کردہ معلومات میں تقریباً 10 دن تک زیر آب رہنے کی صلاحیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسے انتہائی گہرائی میں آپریشن کے لیے بھی تیار کیا گیا ہے اور بعض معلومات کے مطابق یہ تقریباً 6 ہزار میٹر تک گہرائی میں جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تاہم یہ اعداد و شمار تیار کنندہ کی جانب سے بیان کردہ صلاحیتوں پر مبنی ہیں اور حقیقی جنگی حالات میں اس کی کارکردگی مختلف ہوسکتی ہے۔




