ایرانمشرق وسطی

ایران نے صیہونی دہشتگردی کی مذمت کی

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے قدس کی غاصب اور جابر صیہونی حکومت کی جانب سے غزہ پر جارحیت اور جہاد اسلامی فلسطین کے کمانڈر کی شہادت کی مذمت کی۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے غزہ پر ہوئی صیہونی جارحیت و دہشتگردی کی مذمت کی۔

انہوں نے عالمی عدالتوں میں صیہونی جارحین پر مقدمہ چلانے، انھیں جنگی مجرم قرار دینے اور انھیں کیفر کردار تک پہنچانےکا مطالبہ کیا۔

سید عباس موسوی نے فلسطینی عوام کی مزاحمت کو سراہتے ہوئے یکجہتی، اتحاد اور مزاحمت کو فلسطین پر قبضہ کرنے والوں سے مقابلہ کرنے کا واحد طریقہ قرار دیا۔ انہوں نے فلسطین میں ناجائز صہیونی ریاست کی جارحیت اور دہششتگردانہ اقدامات کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کی خاموشی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ اس ظالم اور قاتل حکومت کی حمایت کی روشنی میں فلطسینی عوام کے قتل عام اور ان کیخلاف ظلم اورغارت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

انہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ القدس الشریف اور مقبوضہ فلسطین میں صہیونی ریاست کے دہشتگردانہ اقدامات کو رکنے اور مظلوم فلسطینی عوام کی حفاظت کے لئے اپنے انسانی اور قانونی فرائض اور ذمہ داریوں کو نبھائیں۔

بات قابل ذکر ہے کہ غزہ کی پٹی پر ناجائز صہیونی حکومت نے منگل کی صبح مشرقی غزہ پٹی پر حملہ کر کے جہاد اسلامی فلسطین کے ایک کمانڈر بہاء ابوالعطا اور اس کی بیوی کو شہید کردیا جبکہ اس حملے میں ان کے دوبچوں سمیت تین افراد زخمی ہوگئے جن کی حالت تشویشناک ہے۔

فلسطینی استقامتی گروہوں نے اپنے علیحدہ علیحدہ بیانات میں شہید ابوالعطا کے قتل کی پوری ذمہ داری غاصب صیہونی حکومت پر عائد کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ صیہونیوں کے اس جرم کا ضرور جواب دیا جائے گا۔

درایں اثنا صیہونی فوج کے حملے کے بعد فلسطین کی استقامتی تحریک نے اب تک 190 کے قریب میزائل فائر کر کے مقبوضہ علاقوں کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایاہے۔

صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے دس سے زیادہ یہودی آبادکاروں کے زخمی ہونے کی خبر دی ہے اور بتایا ہے کہ میزائلی حملوں کے خوف سے عسقلان ، سدیروت شہر اور غزہ پٹی کے اطراف کی کالونیوں میں خطرے کے الارم بجائے گئے۔

ذرائع کے مطابق صیہونی حکومت نے استقامتی محاذ کے مزید حملوں کے خوف سے تل ابیب اور مقبوضہ علاقے کے دیگر شہروں کے اسکول اور آفس بند کردیئے۔

اس رپورٹ کے مطابق تحریک جہاد اسلامی کے فوجی بازو القدس بریگیڈ نے بھی مقبوضہ فلسطین کے شہر حیفا کو دسیوں میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

اسی طرح فلسطینی استقامت کی میزائلی کارروائیوں کے خوف سے تل ابیب کے ریشون لٹسیون علاقوں میں بھی خطرے کے الارم بجنے لگے۔

تل ابیب کے خلاف فلسطینی استقامتی محاذ کی یہ کارروائیاں، دوہزار چودہ کے بعد اس نوعیت کا پہلا آپریشن شمار ہوتا ہے۔اسرائیلی فوج نے غزہ کی تمام گذرگاہوں کو بند اور غزہ پٹی کے ساحلوں سے چھے میل تک کی حدود کو بلاک کردیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button