ایشیااقتصادیدنیامشرق وسطییورپ

معاشی بحران اب امریکی مالیاتی منڈیوں تک پہنچ گیا

تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ قرض اور شرح سود کا دباؤ غیر ملکی سرمایہ کاری اور امریکی منڈی

معاشی بحران اب امریکی مالیاتی منڈیوں تک پہنچ گیا

تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ

حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی سے اضافہ ہوا۔ فوجی کشیدگی دوبارہ بھڑکنے کے ساتھ برینٹ خام تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ تقریباً 95 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گئی۔ امریکہ کے ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تیل کی قیمت میں بھی 5.2 فیصد اضافہ ہوا اور یہ دو ماہ کے دوران پہلی مرتبہ 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی۔

قرض اور شرح سود کا دباؤ

امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈز کی شرح منافع اس وقت 4.7 سے 4.8 فیصد کی حدود میں ہے، جبکہ 30 سالہ بانڈز 5.2 فیصد سے اوپر کی سطح پر خرید و فروخت ہو رہے ہیں۔ یہ ایسی سطح ہے جو 2007 کے بعد سے نہیں دیکھی گئی۔ ان اعداد و شمار کا مطلب یہ ہے کہ شرح سود جتنی زیادہ دیر تک بلند رہے گی، امریکی حکومت کے وسائل کا اتنا ہی بڑا حصہ قرض کی لاگت ادا کرنے میں صرف ہوگا۔

غیر ملکی سرمایہ کاری اور امریکی منڈی

امریکہ کے لیے زیادہ تلخ پہلو یہ ہے کہ جاپان، جو امریکی بانڈز کا سب سے بڑا غیر ملکی خریدار ہے اور کئی برس سے مسلسل یہ بانڈز خرید کر امریکہ کو مالی سہارا دیتا رہا ہے، اب پہلی مرتبہ 1996 کے بعد اپنی 10 سالہ مدت کے بانڈز کی شرح منافع کو 3 فیصد تک پہنچتے دیکھ رہا ہے۔ اس کے طویل مدتی بانڈز کی شرح منافع بھی 30 سالہ ریکارڈ کی بلند ترین سطحوں کو چھو رہی ہے۔ جب جاپانی کرنسی کمزور ہے اور جاپان کی مقامی منڈی بھی پرکشش منافع فراہم کر رہی ہے تو جاپانی سرمایہ پہلے کی طرح امریکہ کا رخ کیوں کرے گا؟

متعلقہ مضامین

Back to top button