مشرق وسطیافغانستانایشیا

افغانستان, صوبہ بادغیس میں مسافر بس کو دھماکے سے اڑا دیا گیا

اسلام ٹائمز کے مطابق بم کے ذریعے بس کو نشانہ بنانے کا واقعہ مغربی صوبے بادغیس میں پیش آیا، جس سے امریکی فوج کے افغانستان سے مکمل انخلا سے قبل کشیدگی میں اضافے کا خدشہ بڑھا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق کسی گروپ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کیا۔ تاہم بادغیس کے گورنر حسام الدین شمس نے طالبان پر بم نصب کرنے کا الزام عائد کیا۔ طالبان کی جانب سے اس الزام پو کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

صوبے کے ایک اور عہدیدار خداداد طیب نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے کا نشانہ بننے کے بعد بس کھائی میں جا گری۔

واضح رہے کہ افغانستان میں اکثر بم سرکاری و فوجی قافلوں کو ہدف بنانے کے لیے استعمال کئے جاتے ہیں لیکن بعض اوقات عام شہری بھی ان کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے سرکاری فورسز اور طالبان دونوں سے کئی بار شہریوں کی حفاظت کے لیے احتیاط برتنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے کہا کہ رواں سال کے پہلے تین ماہ میں دہشت گردی کے واقعات میں ایک ہزار 783 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کی نسبت 29 فیصد زیادہ ہے۔ رواں ہفتے کابل میں مسافر بسوں کو تواتر سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button