اسلاماسلامی تاریخاہل بیتحسن نصراللہحضرت محمد صلى الله عليه وسلمسیرت نبیلبنانمثالی شخصیاتمشرق وسطییورپ

استقامی محاذ شعب ابی طالب میں ہے: سید نصراللہ

حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے موجودہ صورتحال کو استقامتی محاذ کے لیے شعب ابی طالب جیسے صورتحال کے مترداف قرار دیا ہے۔

جمعے کی شب اپنے ایک خطاب میں سید حسن نصراللہ نے موجودہ صورتحال خاص طور سے ایران اور حزب اللہ کے خلاف امریکی پابندیوں کو ابتدائے اسلام میں کفار و مشرکین مکہ کی جانب سے مسلمانوں کے سخت ترین سماجی اور اقتصادی محاصرے جیسا قرار دیا جو تاریخ اسلام میں شعب ابی طالب کے نام سے مشہور ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح شعب ابی طالب میں بنی ہاشم کے محاصرے کے دوران مسلمانوں سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کو حوالے کر دیں تو انہیں آزادی مل سکتی ہے، اسی طرح آج حزب اللہ سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ اسلحے سے دستبردار اور لبنان کو بے یار و مددگار چھوڑ دے تاکہ اسرائیل کا جو جی چاہے انجام دے۔

حزب اللہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس اُسی دیمک کی مانند ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے زمانے میں شعب ابی طالب کا محاصرہ ہونے کا سبب بنی۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ یہ وائرس بھی بعض قوموں کے خلاف جاری ظالمانہ محاصرہ ختم ہونے کا سبب بن جائے۔

شعب ابی طالب تاریخ اسلام کا اہم ترین واقعہ شمار ہوتا ہے۔ جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی الاعلان اسلام کی تبلیغ شروع کی تو یہ بات قریش کے سرداروں میں تشویش کا باعث بنی اور انہوں نے اسے روکنے کے لیے بعض اقدامات انجام دئے۔ جب آنحضرت نے کفار قریش کی جانب سے ہر قسم کی مالی اور سماجی پیشکشوں کو ٹھکرا کر اسلام کی تبلیغ سے دستبردار ہونے سے انکار کردیا تو انہوں نے ایک باہمی عہد نامے پر دستخط کیے جس کے تحت مسلمانوں کا شدید ترین اقتصادی اور سماجی بائیکاٹ کر دیا گیا۔

بنی ہاشم اور دیگر مسلمان شعب ابی طالب میں محصور ہو گئے۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھیوں کا سماجی اور اقتصادی محاصرہ تین سال تک جاری رہا۔ پھر معجزۂ الہی کے ذریعے دیمک نے سوائے نام اللہ اور محمد (ص) کے، عہدنامے کے تمام الفاظ کو چاٹ کر کفار و مشرکین کے عہد و پیمان کو غیر موثر بنا دیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت میں استقامتی محاذ کے خلاف امریکہ کی ناکہ بندی بھی شعب ابی طالب جیسی بلکہ شائد اس سے بھی زیادہ بدتر ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے شروع میں ایران کو لالچ دینے کی کوشش کی اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے دعوی کیا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے ایران کو بہت زیادہ مادی اور اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے لیکن رہبر انقلاب اسلامی نے تدبیر اور دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے واشنگٹن کی اس کوشش کو ناکام بنادیا۔ بعد ازاں امریکہ نے ایران کے خلاف ہمہ گیر اقتصادی پابندیوں کا سلسلہ شروع کیا لیکن اس کی ظالمانہ پابندیوں کا بھی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا اور اسلامی جمہوریہ ایران استقامت کے راستے پر گامزن رہا۔

ایران کے خلاف دباؤ کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اس کے مغربی اور عرب اتحادیوں نے خطے کی استقامتی تنظیموں پر بھی دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔

لبنان کی حزب اللہ، عراق کی عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی، یمن کی انصار اللہ اور اسی طرح فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تنظیموں کو دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا اور ان تنظیموں اور ان کے قائدین کے خلاف سخت ترین پابندیاں لگا دی گئیں۔ لیکن نہ تو یہ تنظمیں امریکی دباؤ کے آگے جھکیں اور نہ ہی ان کے رہنماؤں نے اپنے موقف سے پسپائی اختیار کی بلکہ امریکہ کے خلاف ان کے عزمِ استقامت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

عراق میں امریکی دہشتگردوں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات اس کی واضح مثال ہیں جس نے واشنگٹن کو عراق بھر میں پھیلے ہوئے اپنے باوردی دہشتگردوں کو باہر نکالنے یا انہیں چند بڑے فوجی اڈوں تک میں محدود ہوجانے پر محبور کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close