ایرانمشرق وسطی

جدید ترین سینٹری فیوج مشینوں نے کام شروع کردیا

اسلامی جمہوریہ ایران نے جدید ترین سینٹری فیوج مشینوں آئی آر سکس میں گیس انجکشن کے عمل شروع کردیا ہے۔

تیس آئی آر سکس سینٹری فیوج مشینوں کی چین میں میں گیس بھرنے کی تقریب نطنز کے ایٹمی انرچمنٹ پلانٹ میں منعقد ہوئی جس میں ایران کے ایٹمی توانائی کے قومی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی بھی شریک تھے۔
تقریب میں خطاب کرتے ہوئے علی اکبر صالحی کا کہنا تھا کہ یہ موجودہ سینٹری فیوج مشینیں فرسٹ جنریشن مشینوں کے مقابلے میں دس گناہ زیادہ یورینم افزدہ بنانے کی توانائی رکھتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آج سے ایران کی یورنیم افزودہ بنانے کی گنجائش دوہزار چھے سو سے بڑھ کر آٹھ ہزار چھے سو سیپریٹو ورک یونٹ تک پہنچ گئی ہے۔
ڈاکٹر علی اکبر صالحی نے کہا کہ ایٹمی معاہدے پر علمدرآمد کی سطح میں کمی کے تیسرے مرحلے سے پہلے ایران میں یورینیم کی پیداوار روزانہ چار سوپچاس گرام تھی جو اب پانچ ہزار گرام یومیہ تک پہنچ گئی ہے۔
ایران کے محکمہ ایٹمی توانائی کے سربراہ کے مطابق جو کام آج انجام دیا گیا وہ ایٹمی معاہدے کے مطابق چار سال بعد انجام پانا تھا لیکن مغرب کی جانب سے پیدا کردہ صورتحال کے پیش نظر ایرانی حکام نے قبل از وقت ایسا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈاکٹر علی اکبر صالحی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ایران کے ایٹمی سائنسداں ایٹمی ٹیکنالوجی کی ترقی کا عمل پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button