اسلاماسلامی تاریخاہل بیتتاریخ پیغمبریندنیاسیرت نبیمثال خواتین

حضرت خدیجہ سلام اللہ مضمون

یوم وفات ناصرہ رسول اللہ (ص) حضرت خدیجہ سلام اللہ علیھا !

رسول اللہ (ص) حضرت خدیجہ سلام اللہ

حضرت خدیجہ سلام اللہ مضمون

ایک عظیم انساء اسلام تھیں، جو کہ مؤمنوں کی ماں اور رسول اللہ کی کیمتی زوجہ تھیں. حضرت خدیجہ ہجرت سے ٦٨ سال قبل، ایک عظیم گھرانے میں پیدا ہوئیں. اُن کے والد جن کا نام حویلد تھا کہ جو قریش قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک معروف اور امیر شخصیت تھے. اُن کی والدہ کا نام فاطمہ تھا کہ جو مکّہ کی عزتدار اور مخلص عورتوں میں سے ایک تھیں.
دور جہالت میں ہونے کے اور نفسانی حواس و شیطانی آرزو میں گرفت ہونے کے لیے سارے وسائل و امکان موجود ہونے کے با وجود، حضرت خدیجہ ایک پرہیز گار گھر سے روشناس تھیں کہ جس کی وجہ سے اُنہوں نے عزت اور شرف کے ساتھ زندگی بصر کی کہ جس کی سبب وہ دور وقت کے مکّہ میں ‘طاہرہ'(صاف) کے لقب سے جانیں جاتیں تھیں.
اسلام قبول کر نے سے پہلے بھی؛
اُن کے نزدیک اعلیٰ انسان وہ نہیں جو مال و دولت اور اچھا مقام پر ہو بلکہ اُن کے نزدیک اعلیٰ انسان وہ تھا کہ جس کی شخصیت میں اچھے صفحات و انسانیت اور اخلاق پوشیدہ ہو.
اور یہ ہی وجہ ہے کہ اُس دور کے مالدار، ابو سفیان اور ابو جہل جیسی شخصیت نے جب اُن سے شادی کر نے کا کہا تو انہوں نے صاف انکار کردیا. چنکہ حضرت خدیجہ کا ماننا تھا کہ اچھا انسان وہ ہے جو سچا، وفادار اور ساحب فضیلت ہو. اور جب وہ رسول اللہ کی شخصیت سے آشنا ہؤیں تو اُنہوں نے خود رسول اللہ سے شادی کا اقرار کیا.
حضرت خدیجہ کی ایک مخصوص خاصیت یہ تھی کہ؛ دور جاہلیت میں اُن کے سر پے سے والد کا سائہ گزر نے کے بعد اُنہوں نے اپنے والد کی تجارت کو بڑے شجاعت اور قابل انداز کے ساتھ اتنا آگے بڑھایا کہ وہ مکّہ کے اول تاجروں میں شمار ہؤیں.
تاریخ اُن کے مال و دولت کے بارے میں لکھتی ہے کہ؛ اُن کے صرف تجارتی مال ٨٠ ہزار اونٹ پر اٹھایا جا تا اور اُن کے تجارتی و دوسرے کاموں کے لئے ٤٠٠ خدمت گزار موجود تھے.

اّتنی مالدار ہو نے کے باوجود وہ غریبوں اور مسکینوں کی مدد کر نے سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں اور اُن کا یہ حال رسول اللہ سے شادی کر نے کے بعد بھی جاری رہا. دوسرے امیر لوگوں کے بر عکس اُنہوں نے اپنی ساری دولت رسول اللہ کے اعلیٰ ہدف کے لیے وقف کردی.

حضرت خدیجہ نے رسول اللہ سے پہلے کوئی شادی نہیں کی یہاں تک کہ اُنہوں نے قریش کے امیر اشخاص کو انکار کر دیا اور اُن کی پہلی اور آخری شادی رسول اللہ سے ہؤی. اور دوسری طرف رسول اللہ نے بھی اُن کی فضیلت کو جانا تو اُنہوں نے شادی کے لئے ہاں کردی.

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button