مشرق وسطییمن

سعودی فوجی اہداف پر یمنی فوج کے کامیاب ڈرون حملے

جنوبی سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور فوجی مراکز پر یمن کے ڈرون اور میزائلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری طرف یمن کی عوامی انقلابی تحریک کے سینیئر رکن محمد البخیتی نے امریکی حکومت کو نصیحت کی ہے کہ سعودی عرب کے ہاتھوں اسلحے کی فروخت پر پابندی کی قرار داد سے فائدہ اٹھاکے خود جنگ یمن سے باہر نکال لے۔

یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحی السریع نے کہا ہے کہ فوج اور عوامی رضاکار فورس کے ڈرون یونٹ نے ایک وسیع آپریشن کے دوران سعوی عرب کے ابہا انٹرنیشنل ایئر پورٹ کو نشانہ بنایا ہے جس کے بعد پروازوں کی رفت و آمد معطل ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یمن کے خلاف جنگ اور محاصرہ ختم ہونے تک سعودی عرب کے فوجی اہداف، ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے پچھلے چند ماہ کے دوران ابہا اور جیزان کے ہوائی اڈوں کو بارہا ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
دونوں ہوائی اڈے یمن پرجارحیت اور بمباری کرنے والے سعودی لڑاکا طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کا مرکز شمار ہوتے ہیں۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے ایئر ڈیفینس یونٹوں نے جنوبی عرب کے علاقے جیزان میں سعودی اتحاد کا ایک جاسوس طیارہ مار گرایا ہے۔
جنگ یمن کے دوران یمنی مجاہدین کے ہاتھوں سرنگوں ہونے والا یہ نواں سعودی جاسوس طیارہ ہے۔
رواں سال جولائی میں تین جبکہ جون کے مہینے میں چھے سعودی جاسوس طیاروں کو یمن کے مختلف علاقوں میں مار گرایا جا چکا ہے۔
درایں اثنا عوامی تحریک انصار اللہ کے سینیئر رہنما محمد البخیتی نے امریکہ سے کہا ہے وہ جنگ یمن سے نکلنے کے لیے سعودی عرب کو اسلحہ کی فراہمی بند کرنے کے قانون سے استفادہ کرے۔
محمد البخیتی کا کہنا تھا کہ جنگ یمن میں امریکہ کا کردار صرف اسلحہ کی فراہمی پر منحصر نہیں بلکہ وہ اس جارحیت میں خود بھی شریک ہے۔
انصار اللہ کے سینیئر رہنما نے یہ بات زور دے کر کہی کہ امریکہ کو یمن کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا چاہیے کیونکہ یمن کی تمام تر مشکلات کی ذمہ داری واشنگٹن پر عائد ہوتی ہے۔
محمد البخیتی کا کہنا تھا کہ طاقت کا توازن تیزی کے ساتھ یمنی عوام کے حق میں بدل رہا ہے کیونکہ یمنی فوج میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کررہی ہے اور وہ سعودی عرب کے اندر اہم اہداف کو نشانہ بنانے کے قابل ہے۔
قابل ذکر ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بچیس جولائی کو کانگریس کی منظور کردہ تین قراردادوں کو مسترد کر دیا تھا جس میں سعودی عرب کو اسلحے کی فراہمی بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد سعودی عرب کو اسلحے کی فراہمی بند کرنے سے متعلق کانگریس کی قرارداد کو دوسری بار ویٹو کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button