ایرانایشیاپاکستانمشرق وسطی

ہندوستان اور پاکستان صبر و تحمل سے کام لیں، ایران

ایران کے وزیر خارجہ نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے صبر و تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بدھ کی شام اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان حالیہ کشیدگی پر افسوس کا اظہار کیا اور دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پاکستان اور ہندوستان کے مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرانے کے لئے ہر قسم کی مدد کرنے کیلئے تیار ہے۔

منگل کے روز شمال مغربی پاکستان میں دہشت گردوں کے اڈوں پر ہندوستان کی فضائیہ کے حملے میں تقریبا تین سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ہندوستان کے اس حملے کے بعد دونوں ملکوں کی فضائیہ نے ایک دوسرے کے جنگی طیاروں کو نشانہ بنایا اور رپوٹوں کے مطابق ہندوستان کے دو اور پاکستان کا ایک جنگی طیارہ مار گرایا۔

دوسری جانب یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے ہندوستان اور پاکستان سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو چاہئے کہ ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں کہ جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

انھوں نے ایک بیان میں دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی سطح پر رابطہ شروع کئے جانے کو اہم قرار دیتے ہو‏ئے خبردار کیا کہ اختلافات و کشیدگی جاری رہنے کی صورت میں ہندوستان اور پاکستان سمیت پورے علاقے کے لئے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

فیڈریکا موگرینی نے کہا کہ یورپی یونین دونوں ملکوں کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہونے کے علاوہ صورت حال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ امن کے لئے ابھی دیر نہیں ہوئی ہے، کہا کہ اسلام آباد نے پلوامہ واقعے کے بعد کہ جس میں ہندوستان کے چوالیس فوجی اہلکار مارے گئے ہندوستان کو مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کی مگر ہندوستان نے عجلت میں آکر جنگ کا راستہ منتخب کیا۔

دوسری جانب ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے چینی اور روسی عہدیداروں کے ساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ ان کا ملک، پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کا خواہاں نہیں۔ سہ فریقی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کی وزیر خارجہ نے پاکستانی علاقے میں قائم دہشت گردوں کے مبینہ کیمپوں پر حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ دہشت گردی کے حملوں سے بچنے کے لیے پیشگی اقدام تھا۔

روسی صدر کے ترجمان دیمتری پسکوف نے بھی کہا ہے کہ ماسکو، نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر پوری نظر رکھے ہوئے ہے اور وہ ہندوستان اور پاکستان، دونوں ملکوں سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ روس کو کنٹرول لائن پر پائی جانے والی کشیدگی پر گہری تشویش لاحق ہے اس لئے کہ دونوں ہی ممالک روس کے دوست ہیں۔

اسی اثنا میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر خبردار کیا ہے۔

انھوں نے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ٹیلیفون پر گفتکو میں موجودہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close