
سوڈان: باغی فوجیوں کی ابتدائی کارروائیوں میں 300 خواتین کا قتل عام
سوڈان کی وزیر مشیر برائے سماجی امور سلیمی اسحاق نے بتایا کہ اس وقت جو شخص فاشر سے طویلہ علاقے کی جانب جا رہا ہے اس کی جان کو سنجیدہ خطرہ لاحق ہے کیونکہ یہ راستہ موت کی شاہراہ بن چکا ہے۔
سلیمی اسحاق نے کہا کہ فاشر شہر میں بچے گھرانوں کو تشدد، اذیتوں، تحقیر حتی کہ جنسی بدسلوکی کا سامنا ہے۔
انہوں نے ریپڈ رسپانس فورس کے ہاتھوں قتل عام کو منظم نسلی تصفیہ قرار دیا جس کی بہت سے فریق خاموش رہ کر حمایت کر رہے ہیں۔
سلیمی اسحاق نے بتایا کہ فاشر شہر میں خواتین کو جنسی تشدد، بدسلوکی اور مختلف قسم کی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یاد رہے کہ سن 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سوڈان میں خانہ جنگی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس کا نقصان براہ راست اس ملک کے عوام کو جبکہ اس ملک کے تیل اور سونے کی دولت پر قبضے کا فائدہ مغربی اور بعض عرب ممالک کو پہنچ رہا ہے۔




