ایشیاپاکستاندنیامشرق وسطی

شہدا کی تدفین ہوگئی، وزیر اعظم نہ آئے!

شہید کان کنوں کی نماز جنازہ کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن میں ادا کی گئی جس میں لواحقین، اہل علاقہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں خونخوار دہشت ٹولے داعش کے ہاتھوں شہید کیے جانے والے کان کنوں کو چھے روز کے دھرنے اور احتجاج کے بعد کوئٹہ میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔

نماز جنازہ میں وفاقی وزیر علی زیدی، معاون خصوصی زلفی بخاری، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری، صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا لانگو سمیت صوبائی وزرا، اراکین اسمبلی اور سماجی رہنما بھی شریک ہوئے تاہم لواحقین کے شدید مطالبے کے باوجود وزیر اعظم عمران خان نے تدفین سے پہلے کوئٹہ جانے اور ان کی دلجوئی سے انکار کر دیا تھا۔

نماز جنازہ کے بعد شہید کان کنوں کی میتوں کو جلوس کی شکل میں ہزارہ ٹاؤن قبرستان لے جاکر سپرد لحد کر دیا گیا- سرکاری ذرائع میں دعوی کیا گیا ہے کہ رات گئے حکومت اور ہزارہ برادری کے درمیان کامیاب مذاکرات اور تمام مطالبات مان لیے جانے اور تحریری معاہدے کے بعد شہدا کے لواحقین نے چھے روز سے جاری دھرنے کو ختم کرنے اور میتوں کی تدفین کا اعلان کیا تھا۔

تین جنوری کو دہشت گردوں کے ایک ٹولے نے بلوچستان کے ضلع بولان کے علاقے مچھ میں واقع ایک کان میں کام کرنے والے تقریبا چودہ شیعہ مزدوروں کو شناخت کے بعد اغوا کیا اور کچھ دور لے جاکر ان میں سے بعض کو ذبح اور بعض کو گولیاں ما ردی تھیں جس کے نتیجے میں گیارہ کان کن شہید ہوگئے تھے جبکہ تین کو انتہائی تشویشناک حالت میں استپال میں داخل کرایا گیا تھا۔

دہشتگرد گروہ داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنی ویب سائٹ پر اس ہولناک واقعے کی فوٹیج بھی جاری کی تھیں۔ بعدا ازاں ہزارہ شیعہ مسلمانوں اور ان کے ساتھ مختلف مسالک اور برادری کے لوگوں نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر اپنے پیاروں کی میتیں رکھ کر احتجاج شروع کر دیا تھا اور پھر پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی لواحقین کے مطالبات کی حمایت میں مظاہرے اور دھرنے شروع ہوگئے تھے جو کئی دن تک جاری رہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق دہشت گردوں کی گرفتار کے ساتھ ساتھ شہدا کے لواحقین کے دیگر اہم مطالبات میں وزیر اعظم سے کوئٹہ آنے اور شہدا کی دلجوئی کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا تاہم عمران خان نے بعض وجوہات کی بنا پر ایسا کرنے سے گریز کیا جس کی وجہ سے شہدا کی تدفین چھے روز کی تاخیر سے انجام پائی۔

درایں اثنا سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان شہیدوں کی تدفین کے بعد کوئٹہ پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کی عمران خان نے کوئٹہ میں علما اور اکابرین اور شہدا کے اہل خانہ اور ہزارہ شیعہ مسلمانوں کے رہنماؤں نیز شہدا کمیٹی کے قائدین سے ملاقات کی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button