مشرق وسطیایران

ٹرمپ کی منحوس حکومت کا خاتمہ ہو گیا: صدر روحانی

Hasan Rouhani, Iran

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے بدھ کو کابینہ کے اجلاس میں امریکہ کی سیاسی تنہائی کو ٹرمپ کا ورثہ قرار دیا اور کہا کہ آج امریکہ، اقوام متحدہ، مسئلہ فلسطین، ایٹمی سمجھوتے اور دیگر موضوعات کے سلسلے میں ٹرمپ کی غلط پالیسیوں کے باعث عالمی سطح پر تنہا رہ گیا ہے۔

صدر حسن روحانی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ امریکی معاشرے کا دو حصوں میں تقسیم ہو جانا ٹرمپ کی منحوس وراثت ہے کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے پورے چار سالہ دورحکومت کا نتیجہ ظلم، بدعنوانی اور اپنے نیز دنیا بھر کے عوام کے لئے مسائل و مشکلات کھڑی کرنے کے سوا کچھ نہیں نکلا۔

صدرِ ایران نے امریکہ کی سرکاری دہشتگردی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر نے کھل کر اعلان کیا ہے کہ اس نے ایک سینیئر فوجی کمانڈر کو جو ایک دوسرے ملک کا مہمان تھا ، قتل کیا ہے اور اس کے اس کام سے امریکہ کی پیشانی پر سرکاری دہشتگردی کی مہر لگ گئی۔

صدر حسن روحانی نے امریکہ میں نئی حکومت کے برسر اقتدار آنے اور ملت ایران کے خلاف پابندیوں کے خاتمے کی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی کوئی فرمان جاری کریں گے تو اس کے جواب میں ایران میں بھی کوئی فرمان جاری کر دیا جائے گا ۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام اور پوری دنیا کے لئے یہ واضح ہو چکا ہے کہ اقتصادی دہشتگردی اور زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی سو فیصد ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے عوام نے استقامت و پائیداری سے دشمنوں کو ان کے مقاصد میں ناکام بنا دیا ہے۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ نے فرانسیسی اخبار لوفیگارو کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے نے امریکہ کی نئی حکومت سے مذاکرات کی بات کہی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے مجید تخت روانچی گزشتہ تین ہفتوں سے تہران میں تھے اور لوفیگارو کے نامہ نگار کی بات بے بنیاد ہے۔

جواد ظریف نے کہا کہ مذاکرات کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ جو کچھ ہوا ہے وہ یہ کہ امریکی حکومت نے وعدہ خلافی اور قانون شکنی کی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button