اہل بیتامام خامنہ ایامام خمینیبدیع ازمان سعید نورسیحزب اللہ حقویردیحسن نصراللہحسین فضل اللہفوٹو گلریمثالی شخصیات

آل محمدﷺ اور امام مہدی علیہ السلام کا خصوصی لشکر ہے ۔

بدیع الزمان سعید نورسی، کلیات رسائل نور، مکتوبات

آل محمدﷺ اور امام مہدی علیہ السلام کا خصوصی لشکر ہے ۔

بدیع الزمان سعید نورسی، کلیات رسائل نور، مکتوبات

 

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ﴿﴾ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيم ﴿﴾ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

والی دعا جسے تمام امت عمومی طور پر اپنی تمام نمازوں میں دن میں پانچ بار دہراتی ہے، مشاہدہ بتاتا ہے کہ یہ دعا قبول ہو چکی ہے۔ الحمد للّٰہ۔ چنانچہ آل محمدﷺ نے بھی آل ابراہیم کی طرح وہی کیفیت اختیار کر لی ہے، اور وہ اس طرح کہ مختلف زمانوں میں اور مختلف علاقوں میں اکثر مبارک سلسلوں کی رہنمائی نورانی اشخاص ہمیشہ سے مرکزی قیادت و  صدارت کا کردار ادا کرتے آئے ہیں اور یہ اتنی کثرت میں ہیں کہ ان قائدین کی مجموعی کیفیت ایک بہت بڑے لشکر کی شکل اختیار کر جاتی ہے۔ چنانچہ اگر یہ لوگ مادی شکل میں داخل ہوجائیں اور مل جل کر ایک جماعت کی کیفیت اختیار کر لیں اور دین اسلام کو آپس کے ربط و ضبط اتفاق اور بیداری و چوکسی کا ذریعہ بنالیں اور ایک مقدّس ملت کا روپ دھارجائیں تو کسی قوم کا کوئی بھی لشکر اُن کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکے گا۔ تو یہ شان و شوکت والا لشکرِ جرّار محمدﷺ کی آل ہے، اور یہ امام مہدی علیہ السلام کا خصوصی لشکر ہے ۔
جی ہاں، تاریخ عالم میں اس وقت کوئی نسل ایسی نہیں پائی جاتی جس کے سلسلہ و نسب کی کڑیاں اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ ملی ہوئی اور باہمد گر پیوستہ ہوں، جو بلند پایہ شرف اور خالص و عالی شان حسب و نسب کی امتیازی خصوصیت کا مالک ہو جیسی کہ“سادات” کی یہ نسل ہے جس میں پائے جانے والے لوگ آلِ بیت کی طرف منسوب ہیں یہی لوگ قدیم سے اہل حقیقت کے تمام سلسلوں کے سر خیل رہے ہیں، اور اہلِ کمال کے مشہور قائد ہیں۔ اور عصرِ رواں میں یہی با برکت نسل کمیّت کے لحاظ سے لاکھوں کی تعداد میں موجود ہے۔ اور یہ لوگ تمام عالم کے برابر بیدار چشم کے مالک اور بابرکت نبوی سلسلئہ نسب کے شرف سے مشرّف ہیں۔ اِن کے دل ایمان اور حبِّ نبوی سے بھرے ہوئے ہیں۔ چنانچہ وجود میں بڑے بڑے حادثات و واقعات رُونما ہوں گے جو اس طرح کی عظیم جماعت میں اس مقدّس قوّت کو بیدار کریں گے پھر بلا شبہ اِس عظیمُ الشان قوّت میں پائی جانے والی یہ بلند پایہ حمیّت کی یہ رگ پھڑ کے گی اور “امام مہدی علیہ السلام” زمام قیادت ہاتھ میں لے لیں گے اور اسے کشاں کشاں حق و حقیقت کی طرف لے جائیں گے۔
اس واقعے کا اس طرح وجود میں آنا ایسے ہی ہے جیسے اس خزاں کے بعد موسمِ بہار آئے گا۔ اور ہم اللّٰہ تعالیٰ کی سنّت، عادت اور اُس کی رحمت سے اس بات کے مُنتظر اور اُمیدوار ہیں۔ اور اس انتظار میں رہنا ہمارا حق ہے۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button