مشرق وسطییمن

یمن کے مختلف علاقوں پر سعودی اتحاد کی وحشیانہ جارحیت

المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے یمن کے مختلف صوبوں منجملہ مآرب، حجہ، الجوف اور البیضا کے رہائشی علاقوں پر شدید حملے کئے جن کے نتیجے میں رہائشی مکانات اور متعدد بنیادی تنصیبات تباہ ہو گئیں۔

سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے اس سے قبل جمعے کو بھی مغربی یمن کے صوبے الحدیدہ کے مختلف علاقوں پر حملے کر کے اس صوبے میں جنگ بندی کی ایک سو پندرہ بار خلاف ورزی کی تھی۔

یمن کے مختلف صوبوں پر جارح سعودی اتحاد کے ان وحشیانہ حملوں کا سلسلہ ایسے وقت میں جاری ہے کہ یمن کی عوامی تحریک انصار اللہ نے اعلان کیا ہے کہ صوبہ الجوف میں شادی کی ایک تقریب پر جارح سعودی عرب کے حملے میں اکتیس یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ انصاراللہ نے کہا کہ جارح سعودی عرب کے جنگی طیارے یمنی بچوں اور عورتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جب کہ ان کے یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین کی سخت خلاف ورزی شمار ہوتے ہیں اور ان جرائم کی تمام ذمہ داری جارح قوتوں اور عالمی برادری پر عائد ہوتی ہے۔

الجوف ایک ایسا صوبہ ہے جس پر فروری دو ہزار بیس سے اب تک جارح سعودی عرب کے جنگی طیارے وقتاً فوقتاً بمباری کرتے رہے ہیں۔

دریں اثنا المیادین ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے اپنے ٹوئٹر پیج پر ٹوئٹ کیا ہے کہ سعودی اتحاد نے تیل بردار بحری جہازوں کو روک رکھا ہے جس سے یمن میں انسانی بحران اور زیادہ شدت اختیار کر گیا ہے اور یمنی عوام کی معاشی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صافر تیل بردار بحری جہاز کے جائزے و تعمیر کے لئے اقوام متحدہ کے اظہارِ رضامندی کے باوجود اب تک اس سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔

یمن کا صافر تیل بردار بحری جہاز مغربی یمن کے ساحلی سمندر میں گذشتہ چار برسوں سے لنگر انداز ہے اور جارح سعودی اتحاد اس آئل ٹینکر کی تعمیر سے روکتا رہا ہے۔ یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ نے مذکورہ تیل بردار بحری جہاز کی فرسودہ حالت کے سبب ماحولیات پر پڑنے والے تباہ کن اثرات کی بابت بارہا خبردار کیا ہے۔

یاد رہے کہ یمن پر سعودی عرب کی جاری جارحیت کے نتیجے میں ہر سال تقریبا ایک لاکھ یمنی بچے حملوں، محاصرے، ادویات کی عدم رسائی اور ناقص غذا کے سبب اپنی جان گنوا رہے ہیں۔

سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت کے زیر سایہ اپنے اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید و زخمی ہو چکے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے یمنی عوام کو شدید غذائی قلت اور طبی سہولتوں اور دواؤں کے فقدان کا سامنا ہے۔ سعودی عرب نے غریب اسلامی ملک یمن کی بیشتر بنیادی تنصیبات اسپتال اور حتی مسجدوں کو بھی منہدم کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ میں اپنے اہداف تک پہنچنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close