ایرانمشرق وسطی

اگرشہید سلیمانی نہ ہوتے تم لندن میں چین سے نہ ہوتے، صدر روحانی

جمعرات کو برطانوی وزیراعظم سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوے صدر ایران نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ شہید سلیمانی خطے کے عوام کے دوست اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ہیرو تھے۔

صدرایران نے امریکہ کے دہشت گردانہ اقدامات کو خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے برطانوی وزیراعظم پر واضح کیا کہ اگر امریکہ نے کسی دوسری غلطی کا ارتکاب کیا تو اسے اور زیادہ سخت جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ڈاکٹر حسن روحانی نے امریکی دہشت گردی میں جنرل سلیمانی کی شہادت کے حوالے سے بعض برطانوی عہدیداروں کے بیانات پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں امریکی فوجی اڈے پر ایران کا جوابی حملہ اقوام متحدہ کے منشور کی شق نمبر اکیاون کے عین مطابق دفاع کے جائز حق کے زمرے میں آتا ہے۔

قبل ازیں یورپی کونسل کے چیرمین چارل میشل سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان سے لے کر عراق اور یمن سے لیکر لبنان تک پورے خطے میں عوامی سطح پر ہونے والے مظاہرے شہید جنرل سلیمانی کی ان کوششوں کی قدردانی ہے جو انہوں نے خطے کی سلامتی اور امن کے لیے انجام دی ہیں۔

صدر حسن روحانی نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ واشنگٹن کی کاسہ لیسی کے بجائے خود مختار پالیسی اپنائے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button