ایشیاپاکستانکشمیرہندوستان

بابری مسجد قانونی اور شرعی لحاظ سے مسجد ہے اور قیامت تک مسجد رہے گی: جمعیت علمائے ہند

جمعیت علمائے ہند کا کہنا ہے کہ بابری مسجد کے حوالے سے مسلمانوں کا نقطہ نظر پوری طرح تاریخی حقائق و شواہد پر مبنی ہے۔

بابری مسجد پر سپریم کورٹ کے فیصلے کوسمجھ سے بالاتر قرار دیتے ہوئے جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشدمدنی نے پارٹی کی مجلس عاملہ کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد قانون اور عدل وانصاف کی نظرمیں ایک مسجد تھی اور آج بھی شرعی لحاظ سے مسجد ہے اور قیامت تک مسجد ہی رہے گی، چاہے اسے کوئی بھی شکل اور نام دے دیا جائے۔

انہوں نے بابری مسجد کےفیصلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ کسی فرد اور جماعت کو یہ حق نہیں ہے کہ کسی متبادل پر مسجد سے دستبردار ہوجائے کہاکہ مجلس عاملہ نے کہا کہ مسلمانوں کا یہ نقطہ نظر پوری طرح تاریخی حقائق وشواہد پر مبنی ہے کہ بابری مسجد کسی مندرکو منہدم کرکے یا کسی مندرکی جگہ پر تعمیر نہیں کی گئی ہے اور خود سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں اس بات کو تسلیم کیا ہے۔اسی بنیاد پرجمعیۃ علمائے ہند کا روز اول سے بابری مسجد حق ملکیت مقدمے میں یہ موقف رہا ہے کہ ثبوت و شواہد اور قانون کی بنیاد پر سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ دے گا اسے ہم تسلیم کریں گے۔خود سپریم کورٹ نے متعدد بار کہا تھا کہ بابری مسجد کا مقدمہ ملکیت کا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button