شاممشرق وسطی

دمشق پر اسرائیلی حملے، شامی حکومت کا شدید احتجاج

شام کی حکومت نے دمشق کے اطراف میں اسرائیل کے فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ صیہونی حکومت کے لئے امریکا کی بے دریغ حمایت کی وجہ سے انجام پایا ہے۔

شام کی وزارت خارجہ نے دمشق اور اس کے اطراف میں اسرائیل کے فضائی اور میزائلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے صیہونی حکومت کے لئے امریکا کی بے دریغ حمایتوں کے نتیجے میں انجام پائے ہیں۔

شام کی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے چیئرمین کے نام اپنے الگ الگ مراسلوں میں دمشق اور اس کے مضافات میں اسرائیلی حملوں پر احتجاج کرتے ہوئے اس طرح کے حملوں کی فوری روک تھام کا مطالبہ کیا ہے۔ ان مراسلوں میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے یہ بزدلانہ حملے شام کے بحران کو طول اور شام کے اندر جنگ کو جاری رکھنے کی غرض سے کئے جا رہے ہیں تاکہ شام میں باقی بچے دہشت گردوں کے حوصلوں کو تقویت دی جاسکے۔

شامی وزارت خارجہ نے اسرائیل کی خطرناک اور جارحانہ پالیسیوں کو تل ابیب انتظامیہ کے لئے امریکا کی مسلسل اور بے دریغ حمایتوں کا نتیجہ قراردیا اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی امن و صلح کی پاسداری کے تعلق سے اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرے اور اسرائیل کو اس طرح کے حملوں سے باز رکھے – صیہونی حکومت کے جنگی طیاروں نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات دمشق کے مضافاتی علاقوں پر میزائلی اور فضائی حملے کئے تھے لیکن شامی حکومت کا کہنا ہے کہ شام کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے اسرائیل کے بیشتر میزائلوں کو فضا میں ہی منہدم کردیا تھا۔

دوسری جانب روس کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے دمشق پر فضائی حملے کرنے کے لئے مسافر طیاروں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا تھا۔ روسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دمشق پر اسرائیلی فضائی حملہ شام کے اقتدار اعلی اور سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس تلخ حقیقت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ اسرائیل نے یہ حملے ان مسافرطیاروں کو ڈھال بنا کرکئے ہیں جو دمشق اور بیروت کے فضائی راستے میں پرواز کر رہے تھے اور اس طرح کے اقدامات مکمل طور پر غیر ذمہ دارانہ اور تشویشناک ہیں۔

روسی وزارت دفاع کے بھی ترجمان ایگور کوناشنکوف نے کہا ہے کہ اسرائیل نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات دمشق پر ہوائی حملے ایک ایسے وقت کئے ہیں جب دو مسافر طیارے بیروت اور دمشق ہوائی اڈوں پر اتر رہے تھے۔ روسی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیل کے چھے ایف سولہ طیاروں نے ان حملوں کے دوران دو مسافرطیاروں کے لئے سنگین خطرہ پیدا کردیا تھا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button