ایشیاپاکستانعربمشرق وسطی

راحیل شریف کے سر پر تلوار اور عمران خان کا کڑا امتحان

سپریم کورٹ نے سعودی فوجی اتحاد کے سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف کا بیرون ملک ملازمت کا این او سی غیر قانونی قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سرکاری ملازمین کی دہری شہریت سے متعلق از خود نوٹس کا محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا اور بعد ازاں تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

تفصیلی فیصلے کے مطابق راحیل شریف کا این او سی قانون کے مطابق نہیں ہے، سابق آرمی چیف کو بیرون ملک ملازمت کے لیے جی ایچ کیو اور وزرات دفاع نے این او سی جاری کیا جب کہ قانون کے تحت سابق سرکاری ملازم کو صرف وفاقی حکومت این او سی جاری کرسکتی ہے اسی لیے این او سی کے بغیر کوئی سابق سرکاری ملازم کسی غیر ملکی حکومت یا ایجنسی کی ملازمت نہیں کرسکتا۔

فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ غیرملکی شہریت کے حامل سرکاری ملازمین ریاست پاکستان کے مفاد کے لیے خطرہ ہیں، دوران ملازمت غیرملکی شہریت لینا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ملازمین کی بدنیتی ظاہر کرتا ہے، متعلقہ حکومتیں دہری شہریت والے ملازمین کی فہرستیں مرتب کرکے ان کے نام منفی فہرست میں ڈالیں، ایسے ملازمین کو ڈیڈلائن دیں اور ان کے خلاف کارروائی کریں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف نے اپنی ملازمت کے بعد سعودی فوجی اتحاد میں شمولیت اختیار کی تھی جس کی پاکستان کے عوام،سیاسی اور مذہبی جماعتوں سمیت پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت نے بھرپور مخالفت کی تھی اور راحیل شریف کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس اتحاد کا حصہ نہ بنیں بلکہ پاکستان کو یمن کی جنگ میں شامل ہونے کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہئیے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button