عربمشرق وسطی

سزائے موت پانے والے سعودی شہدا کے اہل خانہ کو آل سعود کی دھمکی

سعودی حکومت نے ان سینتیس شہدا کے لواحقین کو جیلوں میں ڈال دینے کی دھمکی دی ہے کہ پچھلے دنوں جن کے سر قلم کر دیئے گئے تھے۔ سعودی عرب میں موت کی سزا پانے والوں کی لاشوں یا گرفتار کئے گئے لوگوں کے بارے میں کسی بھی طرح کا سوال کرنا منع ہے-

سعودی عرب کے مقامی ذرائع کے حوالے سے موصولہ خبروں میں کہا گیا ہے کہ سعودی حکام نے سینتیس افراد کے سر قلم کر دیئے جانے والوں کے لواحقین کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے میڈیا، سوشل میڈیا اور یا مجالس ترحیم حتی بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں کے درمیان ایسا کوئی بیان دیا کہ ان کے بیٹوں کو کس طرح سے سزائے موت دی گئی ہے تو انہیں جیلوں میں ڈال دیا جائے گا۔

سعودی عرب میں موت کی سزا پانے والوں کی لاشوں یا گرفتار کئے گئے لوگوں کے بارے میں کسی بھی طرح کا سوال کرنا منع ہے-

سعودی عرب کے مشرقی علاقے القطیف میں مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی حکام نے شہدا کے اہل خانہ پر کہ جن کے پچھلے دنوں سر قلم کر دیئے گئے تھے، سخت دباؤ ڈال رکھا ہے تاکہ وہ ایصال ثواب کی کوئی مجلس نہ کر سکیں-

سعودی حکام نے گذشتہ تیئیس اپریل کو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے جیسے بیہودہ اور بے بنیاد الزامات کے تحت تیئیس سعودی شہریوں کے سر بے دردی کے ساتھ قلم کر دیئے تھے، ان میں بیشتر شیعہ مسلمان تھے-

ان سینتیس افراد کو سزائے موت دیئے جانے کے بعد رواں سال سعودی عرب میں سزائے موت پانے والوں کی تعداد ایک سو چار ہو گئی ہے-

اس سے پہلے دو ہزار سولہ میں بھی سعودی حکومت کی جانب سے سینتالیس افراد کو اجتماعی طور پر سزائے موت دینے کے لئے ان کے سر قلم کر دیئے گئے تھے جن میں آیت اللہ شیخ باقر النمر بھی شامل تھے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button