عربمشرق وسطی

سعودی عرب کے ملک خالد ایئرپورٹ پر دوسرا ڈرون حملہ

یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے ڈرون نے آج علی الصبح سعودی اتحاد کی جارحیت کے جواب میں سعودی عرب کے جنوبی صوبے عسیر میں ملک خالد ایئر بیس کو نشانہ بنایا۔

ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحیی السریع کا کہنا ہے کہ یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے ڈرون “قاصف k2” نے سعودی اتحاد کی جارحیت کے جواب میں جنوبی سعودی عرب کے صوبے عسیرکے ملک خالد ایئر بیس کو نشانہ بنایا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک خالد ایئر بیس پر یہ دوسرا حملہ ہے۔

یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحیی سریع نے کہا کہ یہ حملہ سعودی اتحاد کی جارحیت کے جواب میں کیا گیا جس میں اس ایرپورٹ پر اپنے اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔انھوں نے کہا کہ اس ڈرون حملے میں قاصف دو کے، نامی ڈرون طیارے کا استعمال کیا گیا جس کے بعد ملک خالد ایرپورٹ کو بند کر دیا گیا۔ ان ڈرون حملوں میں ملک خالد ایئرپورٹ کے ریڈار سسٹم، ہتھیاروں کے گودام اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

ملک خالد ایرپورٹ جنوبی سعودی عرب کے صوبے عسیر کے علاقے خمیس مشیط کے قریب واقع ہے اور یہ ایرپورٹ یمن پر جارحیت کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے آل سعود حکومت کا ایک اہم ترین فوجی ہیڈکوارٹر شمار ہوتا ہے۔

یمن کی تحریک انصاراللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام نے گذشتہ ہفتے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک یمن پر سعودی اتحاد کی جارحیت بند اور یمن کا محاصرہ ختم نہیں ہو جاتا ڈرون حملے جاری رہیں گے۔

یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی جوابی کارروائیوں میں سعودی اتحاد کے درجنوں فوجی اہلکار ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔

جارح سعودی اتحاد اپنے وحشیانہ حملوں اور یمن کا سخت ترین محاصرہ کرنے کے باوجود ابھی تک اپنا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کرسکا ہے اور جنگ کا دائرہ اب یمن سے نکل کر سعودی عرب کے اندر تک پھیل گیا ہے جبکہ یمنی فوج کے میزائل اور ڈرون طیارے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی تک بھی پہنچ رہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ یمن کے وزیر دفاع محمد ناصر العاطفی نے حال ہی میں تاکید کے ساتھ اعلان کیا تھا کہ یمن پر حملہ کرنے والے جارح فوجیوں کے لئے جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button