عراقمشرق وسطی

عراق: التاجی کے فوجی اڈے پر راکٹ حملہ

خـبر رساں ایجنسیوں کے مطابق منگل کی شب دارالحکومت بغداد کے شمال کی جانب واقع التاجی کے فوجی اڈے کے داخلی راستے پر دو راکٹ آکر لگے ہیں تاہم اس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

گزشتہ جمعرات کو شمالی بغداد سے ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع البلد کے فوجی اڈے پر بھی راکٹوں سے حملہ کیا گیا تھا۔ عراق میں موجود امریکی فوجی حالیہ برسوں کے دوران بارہا مذکورہ فوجی اڈوں کو استعمال کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ داعشی دہشت گردوں کے ایک گروپ نے عراقی دارالحکومت بغداد کے مختلف علاقوں پر راکٹ برسائے ہیں جس کے نتیجے میں کم سے کم سات عراقی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔

عراق میں داعش کی نام نہاد خلافت کے خاتمے کے باوجود اس گروہ کے باقی ماندہ دہشت گرد عناصر مختلف علاقوں میں روپوش ہیں اور گاہے بگاہے اپنے حفیہ ٹھکانوں سے نکل کر عراقی شہریوں اور سیکورٹی فورس کے اہلکاروں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

امریکہ اور اس کے مغربی اور عرب اتحادیوں کی مالی اور فوجی حمایت کے نتیجے میں سر اٹھانے والے دہشت گرد گروہ داعش نے سن دوہزار چودہ میں شمالی اور مغربی عراق کے وسیع و عریض علاقے پر قبضہ اور عام شہریوں کے خلاف لاتعداد گھناونے جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔

حکومت عراق نے اسلامی جمہوریہ ایران سے داعش کے خلاف جنگ میں فوجی مشاورت کی درخواست کی تھی جسے تہران نے قبول کر لیا تھا۔

عراقی فوج اور عوامی رضاکا فورس نے اسلامی جمہوریہ ایران کی فوجی مشاورت کے ذریعے سترہ نومبر دوہزار سترہ کو صوبہ الانبار میں قائم داعش کے آخری ٹھکانے رواہ کو آزاد کراکے عملی طور پر داعش کی نام نہاد خلافت کا خاتمہ کردیا تھا۔

عراق اور شام میں داعش کی نام نہاد خلافت کے خاتمے میں ایران کی القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور جنرل ابومہدی المہندس نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

مذکورہ دونوں جرنیلوں کو گزشتہ دنوں امریکہ نے ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنا کر شہید کردیا تھا۔

جنرل قاسم سلیمانی، حکومت عراق کی دعوت پر دہشت گرد گروہ داعش کے باقی ماندہ عناصر کے خلاف جنگ میں مشاورت فراہم کرنے کی غرض سے بغداد گئے تھے جہاں عالمی دہشت گرد امریکہ نے انہیں ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنا کر شہید کردیا تھا۔

تین جنوری کو بغداد ایئر پورٹ کے قریب امریکی فوج کے دہشت گردانہ حملے میں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور عراق کی عوامی رضاکار فورس کے ڈپٹی کمانڈر جنرل ابو مہدی المہندس اور ان کے آٹھ دیگر ساتھیوں کی شہادت کے بعد عراق کی پارلیمنٹ نے ایک قرار داد پاس کرکے امریکی فوج کو عراق سے نکل جانے کا حکم دیا تھا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button