مشرق وسطییمن

یمن: الحدیدہ کے مختلف علاقوں پر سعودی اتحاد کی جارحیت

جارح سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے یمن کے صوبے الحدیدہ کے مختلف علاقوں پر کتیوشا میزائل برسائے۔ اس دوران یمنی افواج نے بھی مختلف محاذوں پر اپنی دفاعی کارروائیوں میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی فوج کو زبردست جانی اور مالی نقصان پہنچایا ہے۔

العہد ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے یمن کے صوبے الحدیدہ کے مختلف علاقوں منجملہ الزعفران اور الشیخ کے رہائشی علاقوں پر کم سے کم بائیس کتیوشا میزائل اور اکتالیس مارٹر گولے برسائے۔

سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے اسی طرح صوبے تعز کے شہر صالہ کے بھی رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا اور مارٹر گولوں سے حملہ کیا جس میں دو عورتیں شہید اور دو دیگر عام شہری زخمی ہو گئے۔

دوسری جانب یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے میزائل یونٹ نے سعودی اتحاد کی جارحیت کے جواب میں صوبے تعز کے علاقے وازعیہ کی گذرگاہ پر سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانوں کو زلزال ایک قسم کے دو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

ادھر یمنی فوج نے جنوبی سعودی عرب کے علاقے جیزان میں میں ایک کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب کے ایک فوجی اڈے کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ اس کارروائی میں کئی سعودی فوجی ہلاک بھی ہوئے۔

یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے توپ خانے اور میزائل یونٹ نے ہفتے کی رات بھی صحرائے میدی اور حیران کے مشرق و مغرب میں سعودی فوجی ٹھکانوں پر حملہ کیا جس میں دسیوں سعودی فوجی ہلاک و زخمی ہوئے۔

یمن کے المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے نشانہ بازوں نے بھی شمال مغربی یمن کے صوبے حجہ میں سعودی اتحاد کے فوجیوں کو نشانہ بنایا۔

المسیرہ ٹی وی نے اعلان کیا ہے کہ اس کارروائی میں سعودی اتحاد کے کم از کم سات فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔

اسی اثنا میں یمن کی مسلح افواج کے ڈپٹی جوائنٹ چیف آف اسٹاف میجر جنرل علی الموشکی نے حال ہی میں کہا تھا کہ یمنی فوج نے جارح فوجیوں کو یمن سے زندہ واپس نہ جانے دینے کا تہیہ کر رکھا ہے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب نے امریکا متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ملکوں کی حمایت سے چھبیس مارچ دوہزار پندرہ کو یمن پر اپنے وحشیانہ حملے شروع کئے تھے جو ابھی تک جاری ہیں-

اس دوران جارح سعودی اتحادکے حملوں میں دسیوں ہزار عام شہری مارے گئے ہیں جبکہ اس ملک کی بنیادی شہری تنصیبات تباہ ہوگئی ہیں-

جارح سعودی اتحاد اپنے وحشیانہ حملوں اور یمن کا سخت ترین محاصرہ کرنے کے باوجود ابھی تک اپنا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کرسکا ہے اور جنگ کا دائرہ اب یمن سے نکل کر سعودی عرب کے اندر تک پھیل گیا ہے جبکہ یمنی فوج کے میزائل اور ڈرون طیارے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی تک بھی پہنچ رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button