یمنعربمشرق وسطی

یمن کا محاصرہ ختم ہونے کی صورت میں سعودی عرب پر حملے نہیں کریں گے: انصاراللہ

Yaman

انصاراللہ کے رہنما نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر حملے اس وقت بند ہوں گے جب سعودی عرب، یمن پر جارحیت نہ کرے اور یمن کا محاصرہ ختم کرے ۔

المیادین ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق انصاراللہ کے سیاسی سیل کے  سربراہ محمد البخیتی نے کہا ہے کہ میزائلی حملے بند کرنے کا دارومدار یمن پر سعودی جارحیت اور محاصرے کے خاتمے پر ہے اور اس کے بعد ہی صنعا، بحران کے سیاسی حل کیلئے مذاکرات کی میز پر بیٹھ سکتا ہے۔

محمد البخیتی نے یمن کے محاصرے کو جنگ سے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی نئی حکومت یمن کا محاصرہ جاری رہنے کے ساتھ صنعا سے جارحین کے خلاف جنگ نہ کرنے کی بات کر رہی ہے جبکہ سعودی عرب کے فوجی مراکز کو نشانہ بنانا ہمارا قانونی حق ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے شہریوں سے کہا کہ وہ اس ملک کے فوجی مراکز کے قریب نہ جائیں۔

دوسری جانب یمن کی مستعفی ہونے والی عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت اور یمن کی فوج اور عوامی رضا کار فورسز کے مابین مارب میں گھمسان کی جنگ جاری ہے  تاہم یمن کی فوج  اور عوامی رضا کار فورسز نے مارب ڈیم کے علاقوں الراک  اور قاع المنجوره کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

ادھر یمنی فورسز کی مآرب کی جانب پیشقدمی سے خوفزدہ ہوکر سعودی اتحاد نے امریکہ سے مدد مانگ لی ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے سعودی فریق کی جانب سے روزانہ کی بنیادوں پر ہو رہی جارحیت سے چشم پوشی کرتے ہوئے یمنی فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مآرب کی جانب اپنی پیشقدمی روک دیں اور مذاکرات کی میز پر آجائیں۔

امریکی وزارت خارجہ نے ایک بے شرمانہ اور مضحکہ خیز دعویٰ کرتے ہوئے یمنی فورسز کی فوجی پیشقدمی کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مآرب کی آزادی، جنگ یمن کے توازن کو مکمل طور سے تبدیل کر دے گی، جس سے آل سعود اور اس کے اتحادیوں میں سخت تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

واضح رہے کہ یمن کی عوامی تحریک انصار اللہ کے سیاسی سیل کے سربراہ محمد البخیتی نے چند روز قبل مآرب کی آزادی کے لئے آپریشن شروع کئے جانے کی خبر دی تھی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button