دنیامشرق وسطییورپ

نسل پرستی کورونا سے بھی زیادہ مہلک

عالمی میڈیا کے مطابق امریکہ میں سیاہ فام شہری جورج فلوئیڈ کے پولیس کے ہاتھوں بہیمانہ قتل کے بعد امریکا اور دیگر ملکوں میں ہونے والے مظاہروں میں شدت آگئی ہے، برطانیہ کے شہر برسٹل میں مظاہرین نے سترہویں صدی میں غلاموں کی تجارت میں ملوث ایڈورڈ کولسٹن کا مجسمہ اکھاڑ کر سڑکوں پر گھسیٹا اور پھر اسے پانی میں پھینک دیا۔ مظاہرین نے ونسٹن چرچل کے مجسمے کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی ۔

ذرائع کے مطابق برسٹل میں مظاہرین نے ایڈورڈکولسن کا مجسمہ اسی انداز میں گرایا جیسے عراق جنگ کے بعد ڈکٹیٹر صدام حسین کا مجسمہ گرایا گیا تھا، مظاہرین نے مجسمہ کو پیروں سے روندا اور پھر اسے گلیوں میں گھسیٹتے رہے۔

دوسری جانب لندن میں امریکی سفارت خانے کے باہر ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا، کئی شرکاء ایسے ماسک پہنے ہوئے تھے جن پر درج تھا کہ نسل پرستی کورونا سے بھی زیادہ مہلک ہے۔

مظاہرین نے ونسٹن چرچل کے مجسمے پر بھی نسل پرست لکھ دیا اور اسے بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی، چرچل کو برطانیہ میں قومی ہیرو کا سا درجہ حاصل ہے۔ برطانیہ میں ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس نے اب تک 135 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔ ادھر اسپین میں بھی امریکی سفارتخانے کے سامنے نسلی امتیاز کے خلاف مظاہرہ کیا گیا اور عوام نے امریکہ میں نسل پرستی اور سیاہ فام امریکی باشندے کے قتل کی مذمت کی۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے چھیاسٹھ ماہرین نے ایک بیان میں امریکی عوام کے جاری احتجاجات پر اس ملک کے صدر ٹرمپ کے جواب دینے کے طریقے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے خاص طور سے عوامی مظاہروں کی سرکوبی کے لئے فوجی اقدام کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی بیداری اور جوش و ولولہ امریکہ میں منظم نسل پرستی کے خلاف احتجاج ہے اور امریکی حکومت کی حمایت سے انجام پانے والا نسلی تشدد، اس بات کا باعث بنا ہے کہ نسلی تشدد کے ذمہ دار عناصر کو معاف کر دیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس وقت پوری دنیا ایسے احتجاجات کا مشاہدہ کر رہی ہے جو بنیادی طور پر نسلی عدم مساوات اور امریکہ کے سیاہ فام اور غیر سفید فام شہریوں کے خلاف نسلی تشدد کی مخالفت میں کئے جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی پولیس کے ایک سفید فام افسر نے پچیس مئی کو شہر مینیا پولس میں ایک امریکی سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کو وحشتناک طریقے سے قتل کردیا تھا۔ اس وحشیانہ جرم پر امریکی اور دنیا بھر کے عوام کا غصہ بھڑک اٹھا اور وہ سڑکوں پر نکل آئے ہیں ۔

گذشتہ کئی دن سے جاری ان احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس کی پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں مظاہرین ہلاک، زخمی اور گرفتار ہو چکے ہیں زخمیوں میں صحافی بھی شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close