ایراندنیامشرق وسطی

پابندیوں کی مدت بڑھانے کی صورت میں ایران کا رد عمل شدید ہو گا

اقوام متحدہ میں تعنیات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب مجید تخت روانچی نے واشنگٹن کے ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے والے ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے جو کل نشر ہوا کہا کہ امریکہ 2018 میں ایران جوہری معاہدے سے نکل گیا اور اس کے بعد سے وہ جوہری معاہدے کا حصہ نہیں رہا اس لئے اب اسنیپ بیک میکنیزم کو استعمال کرنے کا امریکی بیان مضحکہ خیز ہے۔

مجید تخت روانچی نے امریکی حکام کی جانب سے جوہری معاہدے اور قرارداد 2231 کو دو علیحدہ علیحدہ دستاویز قرار دینے کے امریکی حکام کے دعوؤں کے جواب میں کہا کہ بہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی حکام نے قرارداد 2231 کا مطالعہ نہیں کیا ہے اس لئے کہ یہ قرارداد جوہری معاہدے کی تائید و تصدیق کرتا ہے اور جوہری معاہدہ قرارداد 2231 کا ضمیمہ ہے۔

ایران کے مستقل مندوب نے اس طویل انٹرویو کے ایک اور حصے میں اس سوال کے جواب میں کہ جوہری معاہدے میں اپنے وعدوں میں کمی سے ایران کا کیا مقصد ہے اور کیا ایران مستقبل میں کوئی نیا اقدام کرے گا، کہا کہ اس کا دارومدار جوہری معاہدے اور قرارداد 2231 کو در پیش خطرات اور چیلنجوں پر ہے جس کے بعد ایران جوہری معاہدے اور قرارداد کے چیلنجوں کا مناسب جواب دے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close