ایراندنیامشرق وسطییورپ

امریکہ کی خارجہ پالیسی اب داخلہ پالیسی بن گئی: ظریف

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے جمعے کے روز امریکی شہر پورٹ لینڈ میں مظاہرین کے خلاف تشدد کے رد عمل ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ میز پر موجود تمام آپشنز کی پالیسی طویل عرصے سے امریکی خارجہ پالیسی کے بنیادی مرکز میں بدل گئی ہے۔

جواد ظریف نے امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے انسداد نسل پرستی کے مظاہروں کو دبانے کے لئے وفاقی فورسز کے استعمال کے خطرے کے جواب میں کہا کہ اس اقدام کا سیدھا مطلب جنگل کا قانون ہے اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصول کی توہین ہے جبکہ اب ٹرمپ حکومت اسی دھمکی کو امریکیوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی ریاست اوریگن کے شہر پورٹ لینڈ کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ شہر میں امریکی صدر ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین میں ہونے والی جھڑپ میں دونوں طرف سے متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ اس تصادم میں کم سے کم ایک شخص کے ہلاک ہونے کی بھی خبر ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے پورٹ لینڈ کے عوام سے کہا ہے کہ شہر کے میئر کے خلاف مظاہرہ کریں۔ رائیٹرز کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے دعوی کیا کہ پورٹ لینڈ کے میئر ٹیڈ وھیلر کے پاس کوئی منصوبہ نہی‍ں ہے اور نہ ہی وہ کوئی کام انجام دے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ کے مختلف شہروں میں 25 مئی سے پولیس کے نسل پرستانہ تشدد کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ 25 مئی کو ریاست مینے سوٹا کے شہر مینیاپولیس میں ایک سفید فام پولیس افسر نے ایک سیاہ فام شہری کو گھٹنے سے گردن دبا کر قتل کر دیا تھا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close