اسلاماہل بیتسیرت نبیفوٹو گلریقرآنمثال خواتین

ہر پہناوا پردہ نہیں ہوتا! ۔ پوسٹر

لغت میں حجاب چھپانے یا ڈھاپنے کو کہتے ہیں اور اسلامی اصطلاح میں خواتین کے پردے سے مراد چہرے اور کلائی سے نیچے ہاتھوں کے علاوہ پورے بدن کو نامحرم سے اس طرح چھپانا ہے کہ بدن کے نشیب و فراز عیاں نہ ہوں اور پردے کے لئے استعمال ہونے والا پہناوا بھی اس طرح کا ہو کہ وہ نا محرموں کی توجہ کا مرکز نہ بنے اور ساتھ ہی یہ کہ اس کے ہاتھ اور چہرے پر کوئی ایسے شیئے بھی نہ ہو جو اسکے لئے زینت میں شمار ہوتی ہو۔

البتہ یہ نکتہ بھی اہم اور قابل غور ہے کہ پردہ صرف خواتین ہی کے لئے نہیں بلکہ مردوں کے لئے بھی ہے اور قرآن کریم میں جس آیتِ کریمہ میں پردے کی بات کی گئی ہے وہاں خواتین سے پہلے مردوں کو مخاطب قرار دیا گیا ہے۔ گویا پردہ ایک ایسا عمل ہے جس میں مرد اور خواتین دونوں کا کردار ہوتا ہے۔ مردوں سے نامحرم خواتین کے سامنے نگاہوں کو نیچا اور انہیں پاک رکھنے کو کہا گیا ہے جبکہ خواتین کو نامحرموں کے سامنے بدن چھپانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close