ایشیادنیاعربمشرق وسطی

ریاض کی اسرائیل نوازی کے خلاف احتجاج

فلسطین کے استقامتی محاذ نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں مقیم فلسطینی باشندوں کی گرفتاریوں اور ان پر عرصہ حیات تنگ کرنے کا مقصد غاصب حکومت کی قربت حاصل کرنا ہے۔

استقامتی محاذ کے بیان میں اس طرح کے اقدامات کو آل سعود کی پیشانی پر کلنک کے ٹیکے سے تعبیر کیا گیا ہے جو تل ابیب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے انجام ديئے جارہے ہیں۔

فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے 2019 سے حماس کے نمائںدے محمد الخضری سمیت 60 فلسطینیوں کو بلا جواز گرفتار کرکے جیلوں ميں بند کردیا ہے۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اپنے ایک تازہ بیان میں آل سعود کو انتباہ دیا ہے کہ سعودی عرب میں مقیم فلسطینیوں کی گرفتاری بلا جواز اور عرب اقدار کی روح کے منافی ہے۔

حازم قاسم نے کہا کہ جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے وہ سعودی عرب میں قانونی طور سے مقیم ہیں اور فلسطین کاز کے لئے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں ریاض پر زور دیا کہ ان افراد کو فوری طورپر رہا کیا جائے۔

جہاد اسلامی فلسطین کے ترجمان داؤد شہاب نے بھی اپنے ایک بیان میں محمود الخضری سمیت تمام فلسطینیوں کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

حماس اور جہاد اسلامی سمیت سبھی فلسطینی تنظیموں نے سعودی عرب میں قید فلسطینیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ حماس کے سربراہ اسمعیل ہنیہ اس سلسلے میں سعودی حکام کو کئی مراسلے بھیج چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button