ایشیادنیا

میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد مسلمانوں کی صورتحال

Myanmar Burma

فوجی بغاوت کےبعد میانمار میں رہ جانے والے روہنگیا مسلمانوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں اوراقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فوجی بغاوت کے بعد کی صورتحال روہنگیائی مسلمانوں کی حالت زار کو مزید خراب کرے گی۔

واضح رہے کہ 2017 میں میانمار کی فوج نے ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا جس کے بعد سات لاکھ سے زائد روہنگیائی بنگلہ دیش ہجرت کر گئے تھے۔ تاہم اب بھی میانمار میں روہنگیائی مسلمانوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

واضح رہے کہ میانمار میں متنازع انتخابی نتائج کے بعد فوج اور سول حکومت میں سخت کشیدگی تھی جس کے بعد میانمار کی فوج نے پیر کی رات ملک کا کنٹرول سنبھال لیا اور آنگ سان سوچی سمیت کئی دیگر اہم رہنماوں کو گرفتار کر لیا۔ فوج نے ایک سال کے لیے ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا۔

یاد رہے کہ میانمار کی حکمراں جماعت نے گزشتہ 5 سال کے دوران بڑے پیمانے پر صوبہ راخائن میں مسلمان اقلیتوں کے خلاف غیر انسانی اقدامات انجام دیئے اور مسلمان اقلیتوں کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button