سیرت نبیاسلام

سیرت النبی

نسب اطہر

سیرت النبی

نسب اطہر

قال اللّہ عز و جل : لَقَدْ جَاءَ کُمْ رَسُولٌ مِّن اَنْفُسِکُمْ
عن انس قال قرأ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لَقَدْ جَاءَ کُمْ رَسُولٌ مِّن اَنْفُسِکُمْ بفتح الفاءِ وقال انا انفسکم نسبا و صھرا و حسبا لیس فی آبائی من لدن آدم سفاح کلنا نکاح۔

حضرت انس رضی اللّٰہُ عنہُ سے روایت ہے رسول اللّٰہ نے اس آیت کو یعنی لَقَدْ جَاءَ کُمْ رَسُولٌ مِّن اَنْفُسِکُمْ بفتح الفاء پڑھا جس کے معنی یہ ہیں کہ بے شک آئے تمہارے پاس اللّٰہ کے رسول تمہارے اشرف اور افضل اور سب سے زیادہ نفیس خاندان سے۔ اس آیت کی تلاوت کے بعد آپ نے ارشاد کی میں باعتبار حسب نسب کے تم سب سے افضل اور بہتر ہوں۔ میرے آباء و اجداد میں حضرت آدم علیہ السّلام لے کر اب تک کہیں زنا نہیں سب نکاح ہے۔ اس حدیث کو ابن مردویہ نے روایت کیا۔

ابن عباس اور زہری بھی مِّن اَنْفُسِکُمْ بفتح الفاءِ پڑھا کرتے تھے اور من افضلکم و اشرفکم کے ساتھ اس کی تفسیر فرمایا کرتے تھےجس طرف ہم نے اپنے ترمجہ میں اشارہ کیا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے والد ماجد اور والدہ ماجدہ تک جس کدر آباء و اجداد اور امہات و جدات سلسلہ نسب میں واقع ہیں وہ سب کے سب محصنین اور محصنات یعنی سب عفیف اور پاک دامن تھے۔ کوئی فرد ان میں زنا کے ساتھ کبھی ملوث نہیں ہوا۔

 

اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓٮِٕكَتَهٗ يُصَلُّوۡنَ عَلَى النَّبِىِّؕ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَيۡهِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِيۡمًا‏ ﴿۵۶

سورة الأحزاب

ٱللَّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ .

ٱللَّٰهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ .

بخاری، الصحيح، کتاب الانبياء، باب النسلان فی المشی، ۳ : ۱۲۳۳، رقم : ۳۱۹۰

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

بھی چیک کریں
Close
Back to top button