انسانی حقوقمشرق وسطییمن

یمن پر سعودی اتحاد کے 108 حملے، عالمی برادری کی ڈرامائی خاموشی

یمن کے اعلی فوجی آفیسر نے العالم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جارح سعودی اتحاد نے جنگ بندی کے دعووں کے بر خلاف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران الحدیدہ کے مختلف علاقوں پر میزائلوں، راکٹوں اور توپ کے گولوں سے حملے کئے۔

المسیرہ ٹیلی ویژن چینل کی کل رات کی رپورٹ کے مطابق جارح سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران یمن کے صوبے الجوف کے خب اور الشعف پر 5 مرتبہ جبکہ صوبہ مأرب کے صرواح علاقے پر 2 مرتبہ حملے کئے۔ ابھی تک ان حملوں کے نقصانات سے متعلق رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے۔

یمن کے خلاف جنگ اور جارحیت کا سلسلہ ایسے وقت میں جاری ہے جب سویڈن میں صنعاء اور ریاض کے وفد کے مابین 18 دسمبر 2018 کو الحدیدہ میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تاہم سعودی جنگی اتحاد نے اپنی ہی اعلان کردہ جنگ بندی کی ایک دن بھی پابندی نہیں کی اور اس اعلان کے محض چند گھنٹے بعد ہی یمن کے رہائشی علاقوں اور شہری اہداف کو زمینی اور فضائی حملوں کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور اس کے بعض اتحادی ممالک، امریکا اور دیگر ملکوں کی حمایت کے زیر سایہ مارچ دوہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ حملے کر رہے ہیں اس عرصے میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید و زخمی جبکہ دسیوں لاکھ یمنی بے سر و سامانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

سعودی عرب اپنے تمام تر وحشیانہ حملوں کے باوجود اپنا ایک بھی مقصد اب تک حاصل نہیں کر سکا ہے –

پچھلے چند برسوں کے دوران مکمل زمینی، سمندری اور فضائی محاصرے کے باوجود یمنی فورسز کی دفاعی طاقت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button