مشرق وسطییمن

یمن پر سعودی اتحاد کے تابڑ توڑ حملے جاری، عالمی برادری خاموش

جارح سعودی اتحاد نے یمن کے صوبے الحدیدہ پر 53 بار حملے کر کے جنگ بندی کی ایک بار پھر خلاف ورزی کی۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق جارح سعودی اتحاد نے جمعرات کے روز فائر بندی کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے یمن کے صوبے الحدیدہ کے مختلف علاقوں پر حملے کئے۔ سعودی اتحاد نے توپوں کے گولے داغے اور جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال کیا۔

جارح سعودی اتحاد نے اس سے قبل الحدیدہ کے ایئرپورٹ پر بھی شدید بمباری کی تھی جس میں اس ہوائی اڈے کو خاصا نقصان پہنچا۔ سعودی اتحاد کے تابڑ توڑ حملوں پر عالمی برادری نے ڈرامائی خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

الحدیدہ یمن کا ایک ایسا صوبہ ہے جہاں فائربندی کے سلسلے میں سوئیڈن میں اتفاق رائے ہوا تھا مگر دوہزار اٹھارہ میں فائربندی کے اعلان کے بعد سے ہی سعودی اتحاد کی جانب سے فائربندی کی جانے والی خلاف وزی کے نتیجے میں ہمیشہ وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔

سوئیڈن میں فائربندی کے اس سمجھوتے پر دسمبر سن دو ہزار اٹھارہ میں دستخط ہوئے تھے۔جارح سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے اسی طرح یمن کے مرکزی، شمالی اور شمال مغربی علاقوں کو بھی وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنایا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور اس کے بعض اتحادی ممالک، امریکا اور دیگر ملکوں کی حمایت کے زیر سایہ مارچ دوہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ حملے کر رہے ہیں۔ اس عرصے میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید و زخمی جبکہ دسیوں لاکھ یمنی بے سر و سامانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ہیں۔سعودی عرب اپنے تمام تر وحشیانہ حملوں کے باوجود اپنا ایک بھی مقصد اب تک حاصل نہیں کر سکا ہے –

پچھلے چند برسوں کے دوران مکمل زمینی، سمندری اور فضائی محاصرے کے باوجود یمنی فورسز کی دفاعی طاقت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close