فلسطینمشرق وسطی

اسرائیلی حملے میں ایک پندرہ سالہ فلسطینی بچہ شہید

اسرائیل کے وحشیانہ حملے میں ایک پندرہ سالہ فلسطینی بچہ شہید ہو گیا۔

فلسطین کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ مشرقی غزہ میں اسرائیل کی فائرنگ میں شدید زخمی ہونے والا عماد ابو ناصر نامی پندرہ سالہ بچہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا۔
اس سے پہلے غاصب صیہونی فوجیوں نے مشرقی غزہ میں مظاہرہ کرنے والوں پر فائرنگ کر دی تھی جس میں چار فلسطینی زخمی ہو گئے تھے۔
فلسطینی نوجوانوں نے بدھ کی شب آگ لگانے والے غبارے اور پتنگیں ہوا میں چھوڑ کر اسرائیل کے خلاف احتجاج کیا۔
غزہ کے ظالمانہ محاصرے اور اسرائیل کی جانب سے معاہدوں کی پابندی نہ کرنے کے خلاف غزہ پٹی کے مکین ہر شب ایسے ہی مظاہرے کرتے ہیں۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ فلسطین کی تحریک مزاحمت نے اسرائیل پر دو راکٹ داغے جو صیہونی بستیوں پر جا کر لگے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے بھی اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے بعد علاقے میں خطرے کے سائرن بجائے گئے تاہم تاحال کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
تحریک مزاحمت کی جانب سے یہ حملہ اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ میں چار فلسطینی نوجوانوں کے زخمی ہونے کے جواب میں کیا گیا۔
درایں اثناغزہ کی مسجدالعمری کے خطیب مفتی نمر ابوعون نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کو حرام قرار دیا ہے۔
نیوز ایجنسی ارنا سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی نمر ابوعون نے کہا کہ عرب ملکوں کو کسی بھی صورت میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کرنا چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین اور اس کے مقدس اسلامی اور مسیحی مقامات امت مسلمہ کی ریڈ لائن ہیں جبکہ بعض عرب ملکوں کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔
غزہ کے مسجد العمری کے خطیب نے اسرائیل کو دنیا کے سامنے رسوا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اور اقتصادی راہوں سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی کوششوں کو روکنے کی ضرورت ہے۔
مفتی ابوعون نے مزید کہا کہ ایسے وقت میں جب اسرائیل کے دوست بعض یورپی ممالک نے بھی اس غاصب حکومت کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر رکھا ہے، بعض عرب ممالک حریصانہ طریقے سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام میں کوشش اور اسرائیلی وزیر اعظم کو اپنے ہاں کی دعوت دے رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button